’خواتین پر تشدد کے واقعات تشویشناک‘، انصاف کی فوری فراہمی ضروری: نریندر مودی
’خواتین پر تشدد کے واقعات تشویشناک‘، انصاف کی فوری فراہمی ضروری: نریندر مودی
ہفتہ 31 اگست 2024 11:47
وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم سے نمٹنے کے لیے کئی سخت قوانین موجود ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے ملک میں خواتین پر تشدد کے واقعات کو ’معاشرے کے لیے نہایت تشویشناک‘ قرار دیتے ہوئے انصاف کی فوری فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق سنیچر کو دہلی میں ضلعی عدلیہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے زیرِاہتمام دو روزہ قومی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’خواتین کے خلاف کیے گئے جرائم پر فوری اور تیزی سے فراہم کیے گئے انصاف کی بدولت ملک کی نصف آبادی کو اپنے محفوظ ہونے کا یقینی احساس ملے گا۔‘
انڈیا میں ان دنوں خواتین پر تشدد کے مختلف واقعات کے خلاف ملک کے متعدد بڑے شہروں میں خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے مزید کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم سے نمٹنے کے لیے کئی سخت قوانین موجود ہیں اور فوری انصاف کو یقینی بنانے کے لیے فوجداری نظام کے درمیان بہتر تال میل کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کولکتہ کے سرکاری آر جی کار میڈیکل ہسپتال میں زیرِتربیت ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے خلاف احتجاج کے بعد واقعے کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کر رہی ہے۔
اسی دوران ریاست مہاراشٹر کے شہر بدلا پور کے ایک سکول میں دو چار سالہ بچیوں پر جنسی حملے نے ملک میں بچوں کی حفاظت سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
تین نئے فوجداری قوانین پر نریندر مودی کی رائے
کانفرنس میں وزیراعظم نے اس بارے میں بھی بات کی کہ کس طرح اُن کی حکومت کے نئے نافذ کیے گئے فوجداری قوانین نہ صرف شہریوں کو سزا دینے کے لیے ہیں بلکہ ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنا نیا انصاف کا نظام ’بھارتیہ نیئا سنہتا‘ کے نام سے بنایا ہے۔ یہ قوانین اس تصور کے مطابق ہیں کہ ’سب سے پہلے شہری‘، سب سے پہلے وقار، اور سب سے پہلے انصاف۔ ہمارے فوجداری قوانین کو استعماری سوچ سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ نیئا سنہتا کا نظریہ صرف شہریوں کو سزا دینا نہیں بلکہ ان کی حفاظت کرنا بھی ہے۔ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے حوالے سے سخت قوانین بنائے گئے ہیں۔‘
انڈیا میں خواتین کے ریپ اور قتل کے واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
سنیچر کو شروع ہونے والی اس دو روزہ قومی کانفرنس میں ملک بھر سے ضلعی عدلیہ کے 800 سے زیادہ ججز کی شرکت متوقع ہے۔
اس کے علاوہ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندراچوڑ، اٹارنی جنرل فار انڈیا، اور سپریم کورٹ کے ججز بھی شریک ہیں۔
اپنے خطاب میں انڈیا کے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کانفرنس مارچ 2024 میں کچ میں منعقدہ آل انڈیا ڈسٹرکٹ ججز کانفرنس کا تسلسل ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کانفرنسز کا مقصد انڈیا کی عدلیہ اور قانونی نظام سے متعلق اہم مسائل کو حل کرنا، اور قانون و معاشرے کے دائرہ کار میں سپریم کورٹ کے کردار پر گفتگو کرنا ہے۔