امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر کہا ہے کہ وہ اپنے نئے دورِ اقتدار میں امن کا پرچار کریں گے ۔ تاہم صدر بنتے ہی ان کی طرف سے اٹھائے گئے چند ابتدائی جارحانہ اقدامات سے امریکہ کے دوست ممالک کے برگشتہ ہو نے کا خدشہ ہے اور یہ بات صدر ٹرمپ کی خواہشات کی تکمیل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔
پیر کو اپنے افتتاحی خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ’قابلِ فخر ورثہ یہ ہوگا کہ دنیا انھیں امن قائم کرنے والے اور متحد کرنے والے کے طور پر یاد رکھے۔‘ اس سلسلے میں انھوں نے غزہ میں قیامِ امن کے عمل کی حمایت کا حوالہ بھی دیا۔
مزید پڑھیں
-
یوکرین اور غزہ جنگ: صدر بائیڈن کی خارجہ پالیسی کیسی رہی؟Node ID: 884393
پانچ سال بعد وائٹ ہاؤس میں واپسی پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ روس پر زور دیں گے کہ وہ یوکرین کے ساتھ جنگ ختم کرکے امن کا معاہدہ کرے۔ چٹکلے کے طور پر انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ صدر ولادیمیر پوتن جن کے ساتھ ان کے گرم جوشی پر مبنی تعلقات ماضی میں کافی خبروں میں رہے ہیں، جانتے ہیں کہ وہ اپنے ہی ملک کو ’تباہ‘ کر رہے ہیں۔
لیکن دو ہزار سترہ سے اکیس کے درمیان صدر ٹرمپ کے ہنگامہ خیز دور کی طرح اس بار بھی ان کی وائٹ ہاؤس میں واپسی پر امریکہ کے داخلی امور سے متعلق شکایات اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ افتتاحی خطاب میں خارجہ پالیسی سے متعلق ان کے ایک یادگار جملے میں یہ وعدہ تھا کہ وہ پاناما نہر کو واپس لے لیں گے جسے امریکہ نے انیس سو ننانوے میں پاناما کو لوٹایا تھا۔ لیکن انھوں نے اسی خطاب میں یہ بھی کہہ دیا کہ چین نے تو بہت مضبوطی سے قدم جما لیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحاد میں شامل ڈنمارک سے گرین لینڈ واپس لینے کی دھمکی بھی دے دی ہے، یہ بھی کہا ہے کہ تارکین کو امریکہ آنے سے روکنے کے لیے وہ میکسیکو کی سرحد پر فوج بھیج دیں گے، یہ اقرار بھی کیا ہے کہ قریبی حیلفوں پر بھی ٹیرف لگانے سے گریز نہیں کریں گے اور یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ اب عالمی ادارۂ صحت اور پیرس کے ماحولیاتی معاہدے سے امریکہ کو کوئی سروکار نہیں ہوگا۔
امریکہ میں قائم ’ڈیفنس پرائی اوری ٹیز‘ نامی ادارہ تحمل کی وکالت کرتا ہے جس کے ایک پالیسی ڈائریکٹر بینجمن فرائڈمین ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ٹرمپ جس زاویے سے دنیا کو دیکھتے ہیں اس میں تضاد ہے۔ ان میں امن کے داعی کی جھلک بھی پائی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف ان میں تصادم پسندی اور لڑائی پر آمادگی جیسے خیالات بھی ہیں۔

پہلے دورِ اقتدار میں ٹرمپ کی شخصیت کا وہ پہلو کئی بار نمایاں طور پر اُبھر کر سامنے آیا جو آمادۂ جنگ اور برسرِپیکار رہنا چاہتا ہے۔ ایران سے امریکی نوک جھوک اسی پہلو کا ایک حصہ تھی جس میں ٹرمپ نے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو مارنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم فرائڈمین کے مطابق اس مرتبہ کم از کم یوکرین اور مشرقِ وسطی پر ٹرمپ کا طرزِ عمل حالات کو درست کرنے کی کوشش جیسا ہے۔ ’مگر لاطینی امریکہ پر اور چین کے لیے انھوں نے جن معاونین کا انتخاب کیا ہے ان میں جارحانہ پن زیادہ ہے۔‘
فرائڈمین کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر ٹرمپ کا فلسفہ انیسویں صدی کے مقبولِ عام صدر اینڈریو جیکسن کے فلسفے سے ملتا جلتا ہے جس میں قومی مفادات کے حصول کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکی سے سکون کا احساس ہوتا ہے۔ اور ایسی سوچ ٹرمپ کے داعیِ امن بننے یا جنگجو مزاج رہنے کے بین بین ہے۔
افتتاحی خطاب میں ٹرمپ نے اپنے حلیفوں کا واضح ذکر نہیں کیا لیکن ماضی میں انھوں نے نیٹو کے حلیفوں کو مفت خورا قرار دیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ اگر انھیں سکیورٹی چاہیے تو پیسے دیں۔
منگل کو ٹرمپ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اپنے جاپانی، بھارتی اور آسٹریلوی ہم منصبوں سے مل رہے ہیں۔ یہ تینوں ملک ’کواڈ آف ڈیموکریسی‘ میں شامل ہیں۔ چین اس فورم کواپنی ترقی روکنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔
