سعودی عرب میں ماہ رمضان کے دوران کام کے اوقات کم کر دیئے جاتے ہیں لیکن کاموں کی فہرست میں اضافی عبادات ، گھریلو ذمہ داریاں اور ثقافتی سرگرمیاں شامل ہو جاتی ہیں۔
عرب نیوز کے ساتھ متعدد افراد نے مقدس مہینے کی اپنی ذمہ داریوں میں کام اور روحانیت کے درمیان توازن قائم کرنے کے طریقوں پر گفتگو کی۔
مزید پڑھیں
-
روزوں کی فرضیت کا مقصد کیا ہے؟
Node ID: 253501
-
سعودی عرب میں رمضان : مقامی اسلامی روایات کی تکمیل
Node ID: 754481
-
ریاض میں تخلیقی ٹیکنالوجسٹ رغد التمیمی کہتی ہیں ابتدائی دن روحانیت، سکون اور خاندان و دوستوں کے ساتھ معیاری وقت گذرتا ہے تاہم مستحکم تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
رغد فجر کی نماز سے ایک گھنٹہ پہلے بستر چھوڑ دیتی ہیں۔ تقریباً 10 بجے کام پر جانے سے قبل آن لائن کورس کو وقت دیتی ہیں اور کام کے بعد وہ خاندان کے ساتھ افطار کی تیاری کرتی ہیں۔
رمضان میں وہ مذہبی علوم کو گہرائی سے سمجھنے، قرآن کی تفسیر پڑھنے اور آیات کی وضاحت پر غور کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
رغد نے بتایا وہ روزہ افطار کرنے کے بعد 10 منٹ واک کرتی ہیں اور رات 9 بجے کے قریب دن ختم کرتی ہیں۔
میل نرس کے طور پر خدمات انجام دینے والے علی سقاف کو دوسرے ملازمین کی طرح 6 گھنٹے کی رعایت نہیں ملتی وہ 12 گھنٹے کی شفٹ میں کام کرتے ہیں۔

علی نے بتایا وہ صبح 6 بجے اٹھ کر 7 بجے کام پر پہنچتے ہیں اور افطار تک اپنا وقت کام میں گزرتے ہیں۔
کام کے دوران ہی مختصر وقت میں افطار کا وقفہ لیتا ہوں اور رات 8 بجے گھر واپس آتے ہی کھانا کھا کر سونے چلا جاتا ہوں۔
وہ کہتے ہیں کام کی نوعیت کے اعتبار سے خاندان کے لیے وقت بہت کم ملتا ہے اور سحری کے لیے بھی نہیں اٹھتا کیونکہ اگر میں جاگ گیا تو دوبارہ نیند نہیں آتی۔
علی سقاف نے بتایا رمضان میں قرآن مکمل پڑھنے کا ہدف پورا کرنے کے لیے کام کے دوران فارغ وقت کا استعمال کرتے ہیں۔

کاروباری شخصیت سارہ تیمور نے بتایا ’میری ذمہ داریوں کی نوعیت مختلف ہے کاروبار دیکھنے کے ساتھ گھر اور چھوٹے بچے کی دیکھ بھال۔
سارہ اپنے دن کا آغاز صبح 6 بجے کرتی ہیں، اپنے بیٹے کو سکول چھوڑتی ہیں پھر اپنے کام پر توجہ دیتی ہیں اور دوپہر ایک بجے بیٹے کو سکول سے واپس لینے جاتی ہیں۔
افطار کے بعد اپنے بیٹے کو رات 8 بجے سلانے کے بعد عبادات اور تلاوت مکمل کرتی ہیں اور 10 بجے سونے چلی جاتی ہیں، رمضان کے ان کے اہداف میں اہم وقت پر نماز پڑھنا شامل ہے۔
