کراچی۔۔۔۔کراچی میں پیدا ہونیوالے محمد انس کا سر غبارے کی طرح پھول گیاتاہم جان بچانے والا آپریشن کرکے اسے بچا لیا گیا۔ پہلے ڈاکٹروں نے اس کا آپریشن کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے بچنے کے امکانات انتہائی کم ہے تاہم والدین کی کوششوں سے ایسے ڈاکٹر مل گئے جنہوں نے اس کا آپریشن کیا۔ اب اس کا سر معمول کے مطابق سکڑ رہا ہے اور سوجن ختم ہورہی ہے۔ واضح رہے کہ سر فٹبال سے بھی دگنا بڑھ چکا تھا۔سلطان آباد کراچی کا رہنے والا بچہ پیدائش کے6ماہ بعد سے اس بیماری کا شکار تھا۔ والدین نے بچے کا ہر قسم کا علاج کروایا ۔ اب یہ بچہ گھر میں صحت یاب ہورہا ہے۔ چند ماہ پہلے چین کے 3سالہ بچے کو بھی یہی بیماری تھی لیکن کراچی میں یہ بچہ خوش قسمت ہے کہ بچ گیا۔اگرچہ اس کی پیدائش 25ویںہفتے میں ہوئی تھی۔ اس کے والد شعیب خان نے کہا کہ ہم نے اپنی کوششیں کم نہیں کیں اور ڈاکٹروں کو منالیا ۔ان کا کہنا تھا کہ آپریشن میں خطرہ بہت زیادہ ہے۔یہ ہماری زندگی کا مشکل ترین دور تھا کیونکہ بچہ انتہائی تکلیف میں تھا نہ کھاسکتا اور نہ پی سکتا تھا اور تکلیف سے ہر وقت روتا رہتاتھا۔ ہمیں اس وقت زیادہ تکلیف ہوتی جب لوگ اس بچے کو ’’بھوت ‘‘سمجھتے تھے۔