Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل غزہ امن معاہدے پر رضامند، امریکہ کی فضائی امداد کا سلسلہ شروع

امریکی اہلکار کے مطابق معاہدے کے تحت چھ ہفتے کے لیے لڑائی ختم کی جائے گی (فوٹو:اے ایف پی)
ایک سینیئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کر لیا ہے۔ یہ اعلان امریکی فوجی کارگو طیارے کی جانب سے غزہ میں پہلی انسانی امداد بھیجنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی اہلکار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ معاہدے کے تحت چھ ہفتے کے لیے لڑائی ختم کی جائے گی جو فوری طور پر شروع ہو سکتا ہے اگر فلسطینی عسکریت پسند گروپ اپنے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی پر آمادہ ہو جائے۔
اہلکار کے بقول اسرائیلیوں نے اس (معاہدے کو) قبول کر لیا ہے۔ اب گیند حماس کے کورٹ میں ہے۔‘
اقوام متحدہ نے غزہ میں قحط سے خبردار کیا ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں امداد پہنچانے والے ٹرکوں سے خوراک کے حصول کے لیے موجود ہجوم پر اسرئیلی فورسز کی فائرنگ سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امداد جو 38 ہزار خوراک پر مشتمل تھی متاثرہ شہریوں کو ریلیف پہنچانے کے لیے بھیجی گئی تھی۔
سینٹرل کمانڈ کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ خوراک امریکی فوجی راشن پر مشتمل تھی جس میں سور کا گوشت نہیں تھا، جس کا استعمال اسلام میں ممنوع ہے۔‘
انتظامیہ کے اہلکار نے کہا کہ ’اگر حماس کمزور یرغمالیوں: بیمار، زخمی، بزرگ اور خواتین کو رہا کرنے پر راضی ہو جائے تو غزہ میں چھ ہفتے کی جنگ بندی آج سے شروع ہو جائے گی۔‘
حماس کے عسکریت پسندوں نے گذشتہ سال سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں سے 130 غزہ میں موجود ہیں جبکہ 31 کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ کو اُمید ہے کہ جنگ بندی زیادہ دیرپا امن کے لیے گنجائش پیدا کرے گی۔ حماس کے ایک قریبی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ حماس کا ایک وفد جنگ بندی پر بات چیت کے لیے سنیچر کو قاہرہ جائے گا۔
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ جنگ بندی سے غزہ کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافہ ممکن ہو گا۔

حماس نے گذشتہ سال سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

ایک امدادی گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے عدم تعاون، دشمنی اور امن عامہ کی خراب صورت حال کی وجہ سے غزہ کے زیادہ تر علاقوں میں سامان کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے جبکہ مایوس ہجوم بھی امدادی قافلوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی 23 لاکھ کی آبادی میں سے ایک چوتھائی کو غذائی قلت کا سامنا ہے اور 80 فیصد کے قریب اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے گذشتہ روز غزہ میں امدادی سامان فضا سے گرانے کا سلسلہ جلد شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں اٹلی کے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کہا کہ فضا سے امدادی سامان گرانے کا سلسلہ جلد شروع کریں گے جبکہ اس کے ساتھ ہی فلسطینیوں کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے مزید طریقوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔
سات اکتوبر کو حماس کے وحشیانہ حملے کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 11 سو 60 افراد ہلاک ہوئے۔

شیئر: