Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

” نہیں ہے حد کوئی تیرے کرم کی“

 
 پھولوں کی رنگا رنگی ہماری زندگی کی تھکاوٹ دور کردیتی ہے
رضی الدین سید۔کراچی
مغر ب کی طوفانی آندھی میں جس کی زد میں ہم سب بہے چلے جارہے ہیں، افسوس ناک طور پرروحانیت کاکہیں گزر نہیں پایا جاتا۔ صور ت حال ایسی شرمندانہ ہو توالحادو سرکشی، نافرمانی اورقتل و خون خرابے کے اس دور ِبے امان میں لازم ٹھہرتا ہے کہ ہم اپنے کردار و افکار کا نئے سرے سے خود جائزہ لیں ۔رب کائنات کی جانب دوبارہ پلٹےںاور احساس دلانے کی کوشش کرےںکہ ہمار امالک ہمیں کس طرح پال رہا ہے ، نعمتیں لٹا رہاہے اور آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرما رہاہے۔ 
ہم باہم گفتگو کریں کہ کس قدر رحیم وشفیق ہے وہ ہستی جو ہر آن اپنی شفقت ہم پر لُٹا رہی ہے۔سوچیں کہ یہ چاند ، یہ سورج، یہ زمین، آسمان، اور ہوائیں، اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے از خود کیوں پیدا فرما دی ہیں کہ روزانہ بلا ناغہ اپنی خدمات انجام دینے میں مصروف رہتی ہیں۔ اگر ایک طرف اس نے توانائی بخشتی ہوئی یہ دھوپ پیدا فرمائی ہے تو دوسری جانب ٹھنڈک سے بھری ہوئی یہ چاندنی بھی بکھیری ہے۔ نور کے یہ دو بڑے گولے، چاند اور سورج، زمین کے انسانوں کے لئے ا س قدر ضروری قرار پائے ہیں کہ زندگی کا کوئی تصوربھی ان کے بغےر نہیںکےا جاسکتا۔سائنس اقرار کرتی ہے کہ نور کے ان دو گولوں کے بغیرزمین پر زندگی ممکن ہی نہیں ہے۔ 
یہا ں سے وہاں تک پھیلی ہوئی پھولوں کی یہ رنگا رنگی اور ا ن کی بھینی بھینی خوشبو، پرندوں کی یہ حیران کن بناوٹ، ان کے مسحور کن نغمے اور سوچ پر مجبور کردینے والی ان کی معصوم زندگی ،ہماری زندگی کی تھکاوٹ کو کس قدر آسانی سے دور کردیتی ہے۔ لاتعداد قسم کے یہ میوے اور ان گنت نوعیت کی یہ فصلیں اللہ تعالیٰ ہمیں یوں بیٹھے بٹھائے جو عطا فرماتا ہے ، اس میں اس پروردگار کی کیامصلحت ہے؟
لاتعداد پھل ہیں۔آم ،انگور، کھجور، خوبانی، آلو بخارے، تربوز، خربوزے، انجیر، امرود، سردے، گرمے، اور جامن وغیرہ جو زمین کے انسانوں کے لئے مسلسل امنڈتے ہی چلے آرہے ہیں اورہر آن انہیں ایک نیا ذائقہ دیئے جا رہے ہیں۔ اپنے بندوں کے لئے نعمتوں کی اس فراوانی میں آخراس کی کیا مصلحت ہے ۔بنی آدم پر وہ اس قدر مہربان کےوں ہے؟ 
پھر ان پھلوں کی حسین پیکنگ، دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس قدر ماہرانہ اور اس قدر حسین کہ محض ان کی ڈیزائننگ دیکھ کر ہی یہ دل یہ سب پیک کرنے والی ہستی پرسو سو بار صدقے جانے لگتا ہے۔ کون ہے وہ جو ان کچے ،کھٹے، اور کسےلے پھلوں کو ماہ ،دوماہ میںاس قدر مےٹھا ، رسیلا،اور فرحت بخش کردےتا ہے کہ زبان شیریں سے شیریں تر ہوتی چلی جاتی ہے جبکہ دل ہے کہ ذائقوں سے سیر ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔
کون ہے وہ ہستی جو سمندر کے نمکین پانی کو اٹھا کر جب آسمان پر لے جاتی ہے توواپس زمین پر لوٹاتے ہوئے زمین کے باسیوں کی خاطراس کانمک نکال کراسے بالکل خوش ذائقہ اور شیریں کردیتی ہے؟کون ہے وہ جس نے ہماری سہولت اور راحت کی خاطر طرح طرح کے بے حساب جانور ہمیں عطا فرمائے ہیں جن میں سے کسی پر ہم سواری کرتے ہیں اورکسی سے غذا حاصل کرتے ہیں؟ ا ن سے حاصل ہونے والی نعمتیں،دودھ، دہی، گھی، گوشت،اور کھالیں ہمارے لئے کس قدر صحت ا فزاءبن جاتی ہیں؟کون ہے جو اندازہ کرسکے کہ ان نعمتوں کی اصل قدرو قیمت کیاہے؟کون ہے وہ جس نے ان جانوروں کی تخلیق میں اس قدر عمدگی،توازن اور باریک انجینیئرنگ فرما رکھی ہے کہ تمام باریکیوں کو دیکھتے ہی دیکھتے دل بے اختیار ان کے خالق کو دیکھنے کی طلب کرنے لگتاہے۔
ہم سوچیںکہ رات کے وقت کالے آسمان پر یہاں سے وہاں تک پائے جانے والے یہ اربوں کھربوں چمکدار ستارے اس نے آخر کس مخلوق کی خاطر پھیلائے ہیں؟ زمین کے رہنے والوں کو وہ اس قدر زیادہ بھلے کیوں لگتے ہیں کہ بے اختیار وہ ان سے محبت کرنے لگتے ہیں،اورسوچ میںپڑجاتے ہیں کہ کیا چیزہیں آخریہ حَسین وجمیل ستارے؟ اور کس عجیب وغریب دھا ت سے تخلیق کیاگےا ہے انہیں؟ یہ ستارے آخر: 
رات میں کیوں چم چم کرتے ہیں
دن میں کہاں جا سوتے ہیں؟ 
سمندروں میں یہ جو اکثر12 اور14 فٹ اونچی اور غضبناک لہریںاٹھتی ہیں، ان کے اندراتنی طاقت، اتنی توانائی اور اتنا جوش آخریکایک کہاں سے آجاتا ہے کہ زمین و فضا میں وہ سب ہی کچھ تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہیں؟ پھر دل دہلادےنے والے یہ پہاڑ، جوہزاروں ہزار سال سے یونہی اپنی جگہ پرجمے جمائے کھڑے ہیں، زمین پر انہیںےوںاےستادہ رکھنے والا کون ہے اورکےوں ان کے دامن میں پہنچ کر بڑے سے بڑا دیو ہیکل بھی خود کو محض بونا گرداننے لگتاہے؟ صدیاں گزرگئی ہیںکہ ان کے اندر پائے جانے والے خزانے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ ہر پہاڑ لگتا ہے کہ گویا سونے کا ہے ،آخر کیوں؟ 
کس قدر عظیم ہے وہ ہستی جو معصو م بچوں کو آسمانوں سے کس قدر حَسین شکل و صورت میں ڈھال کر زمین پر روانہ فرماتی ہے۔اس قدر پر کشش،اتنی من موہنی کہ دےکھنے والابس دےکھتا ہی رہ جائے ۔ مجبور ہوجائے سوچنے پرکہ پھول جیسی اس ننھی سی جان میںاللہ تعالیٰ نے کس قدر مہارت ، کتنی صناعی اور کتنی بڑی دنےاانڈےل رکھی ہے ؟ جس جس چےز کو اس” پھول “کی دیکھو ، اےک عظیم خالق کے ہونے کااز خودپتہ دے رہی ہے،شہادت دے رہی ہے۔اس ننھے کاایک ایک انگ پکار پکارکرکہہ رہا ہے کہ مالکِ کائنات نے اسے کس قدر درستگی کے ساتھ دنیامیں اتاراہے؟ خلَقَ فسَوّیٰ ۔” بنایااور بالکل ٹھیک ٹھیک بناےا“۔ہم حیران ہو کر خود سے سوال کر اٹھیں کہ: 
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں ؟
ابر کیا چیز ہے ، ہوا کیا ہے؟ 
کون ہے وہ ہستی جو کائنات و انسان کی حددرجہ کامل وحَسین تخلیق کرنے کے باوجود نظر نہیں آتی اور چھپی رہ کر بھی دےکھی دےکھی سی محسوس ہوتی ہے؟کون ہے وہ ذات جو انسانوں کے مبتلائے فساد ہونے کے باوجوداپنے احسانات ان پر مسلسل انڈیلتی ہی رہتی ہے؟ اور پھر جب ان تمام سوالات کے جوابات ہمیں مل جائیں تو ہم بے ساختہ پکار اٹھیں کہ ”ہاں عظیم ہے خدایا تو :
”وہی توہے جو نظام ِ ہستی چلا رہا ہے
وہی خدا ہے ،وہی خدا ہے“
لوگ پکار اٹھیں کہ واقعی ”ا للہ ہے بس پیار ہی پیار“ 
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قد ر وسےع و عریض نظام ِ کائنات کوسنبھا لنے والا محض سادہ تخلیق کارنہیں بلکہ وہ اپنی مرضی سے کوئی بھی تخلیق سامنے لاتا ہے۔ وہ جب کوئی شے تخلیق کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے اےک ایک حصے کا اور اےک اےک پہلو کا، مستقبل کے لحاظ سے بھی اور حال کے لحاظ سے بھی خیال رکھتا ہے ،اسے پہلے ہی سے ٹھیک ٹھیک اندازہ ہوتا ہے کہ یہ حصہ کہاں لگے گا ،کس تناسب سے لگے گا اور کس قدر فائدہ اس کا میرے بندے کو پہنچے گا۔تخلیق میں لانے سے پہلے ہی خالق ِ عالم کو ساری باریکےوں کابلا شبہ علم ہوتاہے۔ اس لئے کہ وہی سب سے اعلیٰ تخلیق کرنے والاہے ۔
لاکھوں سال قبل رب تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کوتخلیق فرمایا تھا۔ جس طرز پر اس نے اولین ترےن انسان کو تخلیق فرمایا تھا، آج تک کے تمام انسانوں کووہ اسی سا نچے میں ڈھال رہا ہے۔ وہی ناک نقشہ، وہی سماعت و گفتگو، وہی روشن و چمکدار آنکھیں اور وہی ناخن اورپلکیں! لاکھوں سال پہلے بھی اور لاکھوں سال بعد بھی۔ خود کو اس نے محض ”خالق“ نہیں بلکہ”احسن الخالقین“قرار فرمایا ہے۔اس نے فرمایا کہ وہ ”خالقوں کا بھی خالق “ہے۔”پیدا کرنے والوں میں سب سے بڑا اورسب سے عظیم“۔نہ اس جےسا کبھی کوئی تخلیق کرسکا ہے ،اور نہ آئندہ کبھی کوئی کرسکے گا۔ 
  لامتناہی سمندر کے کنارے کھڑے ہوکر جب ہم ان کی ہیبت ناک لہروں کومسلسل اوپر اٹھتااور نےچے گرتا دےکھےں،جب سمندر کے سینے پر دےو ہیکل جہازوں کو آرام سے یہاں سے وہاں تک دور دراز رواں دواں دےکھیں، جب آسمان سے اترتی ہوئی بارانِ رحمت کودو دوگھنٹے مسلسل برستا ہوا دےکھیں، جب باغوں میں جنم لیتے ہوئے پھولوں اور پھلوں کوروزبروز کھلتے اور دن بدن رنگ و جسامت بدلتے دیکھیں ،دور دورتک پھےلے ہوئے آسمان کو بغےرکسی ستون کے ہزارہا سال سے ےونہی اپنی جگہ پر ٹھہرا ہوا موجود پائیں اور جب زمین سے اگلنے والے خزانوں کو انسانوں کی لگاتارخدمت کرتا ہوا دےکھیں تو ازخود ہمیں پکار اٹھنا چاہئے کہ ”بے شک ہمار ا وہ پروردگار بہت ہی شفیق، بہت ہی منتظم، بہت ہی معاف کردینے والا اور بے حد مہربان ہستی ہے“۔ ہم کہہ اٹھیں کہ” ہاں یہی ہے وہ ذات جوکاروبارِ دنیارواں رکھے ہوئے ہے۔یہی ہے وہ ہستی جس کے کرم کی کوئی حد نہیں۔ ہم پکار اٹھیں کہ’ ہاں خدایا،واقعی:
ہر چیز سے ہے تیری کاریگری ٹپکتی 
یہ کارخانہ تونے کب رائگاں بنایا؟
بیشک اے رب کریم تو عظیم تر ین ہے۔ تیری شان جل جلالہ ہے:
” نہیںہے حد کوئی تیرے کرم کی“

شیئر: