Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا وزارت محنت سعودیوں کی مخالف ہے؟

یعقوب محمد اسحاق ۔ المدینہ
بہت سارے سعودی اپنے اہل خانہ کی مدد کیلئے گھریلو عملہ درآمد نہیں کرپاتے۔ یہ لوگ مجبوراً غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی خدمات حاصل کرتے ہیںاور انہیں اپنے یہاں عارضی ملازمت دیدیتے ہیں۔
ہر سال رمضان المبارک کے موقع پر گھریلو عملے کی طلب بڑھتی ہے۔ غیر قانونی کارکنان کی مدد لی جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ رمضان المبارک کے دوران ہر گھر کے دروازے رشتہ داروںاور احباب کیلئے چوپٹ کھل جاتے ہیں۔افطار اور سحری میں لذیذ ترین کھانے اور مشروبات عزیزوں ، رشتہ داروں اور دوستوں کو پیش کئے جاتے ہیں۔یہ غیر قانونی گھریلو عملے کے لئے خیر و برکت کا مہینہ بن جاتا ہے اور و ہ اپنا محنتانہ بڑھا دیتے ہیں۔ رمضان میں 3ہزار ریال بلکہ اس سے زیادہ بھی محنتانہ وصول کیا جاتا ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ سعودی شہری گھریلو عملہ درآمد کیوں نہیں کر پاتے۔ اسکا جواب یہ ہے کہ اس کے بہت سارے اسباب ہیں۔ سب سے اہم سبب یہ ہے کہ بیشتر شہریوں کی آمدنی گھریلو عملے کی درآمد کے بھاری اخراجات کی متحمل نہیں ہوپاتی۔بوجوہ لاگت بڑھ گئی ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ وزارت محنت و سماجی بہبودافرادی قوت کی درآمد کی فیس 2حوالوں سے بڑھائے ہوئے ہے۔ اس طرح یہ وزارت مقامی شہریوں کی مشکل آسان کرنے کے بجائے اسے اور مزید مشکل بناچکی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ پہلے ایک ویزے کی فیس 2ہزار ریال ہوا کرتی تھی۔ اب 2300ریال کردی گئی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ویزے کی درخواست دینے والا اگر ملازم یا ریٹائر شخص نہ ہو اور اس کی آمدنی مقررہ حد سے کم ہو تو اسے بینک سے یہ سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوتا ہے کہ اسکا بیلنس 25ہزار سے کم نہیں۔ صرف اسی صور ت میں اسے ایک ویزہ مل پاتا ہے اور 2ویزوں کیلئے اسے بینک بیلنس 60ہزار ریال دکھانا ہوتا ہے اور تیسرے ویزے کیلئے 90ہزار ریال کا بینک بیلنس شو کرنا ہوتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ وزارت محنت گھریلو عملے کے ویزے حاصل کرنے کی درخواست دینے والے سعودیوں کیلئے بینک بیلنس اتنا زیادہ اسلئے طلب کرتی ہے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جاسکے کہ وہ گھریلو عملے کی تنخواہیں بروقت ادا کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گھریلو عملے کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کیلئے اس کی ایسی کوئی ضرورت نہیں۔ وزارت کو شہریوں کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہئے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بدنیت ہوتے ہیں اور ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر سعودی شہریوں کو فلپائن سے گھریلو ملازم لانے کیلئے ریکروٹنگ ایجنسی کو 15تا 20ہزار ریال فیس دینا پڑتی ہے۔وزارت محنت بجائے یہ کہ ضرورت مند شہریوں کی پشت پناہی کرے وہ ریکروٹنگ ایجنسیوں کو دولت سمیٹنے کے مواقع فراہم کررہی ہے۔ 
میرے خیال سے یہ جو ریکروٹنگ ایجنسیاں مخصوص تنخواہ پر گھریلو عملہ لاکر بھاری تنخواہ پر سعودیوں کو فراہم کررہی ہیں، یہ انسانی اسمگلنگ کے دائرے میں آتا ہے۔اس پر انسانی حقوق کے اداروں کو اعتراض کرنا چاہئے۔ وزارت محنت سے یہی کہوں گا کہ وہ ہم پر رحم کرے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: