پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان برسبین میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں فاسٹ بولر نسیم شاہ نے 16 سال کی عمر میں ڈیبیو کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ میچ شروع ہونے سے قبل جب نسیم شاہ کو ڈیبیو کیپ پہنائی گئی تو وہ آبدیدہ ہوگئے۔
انہوں نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں اب تک صرف چھ میچز کھیلے ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے دیر سے ہے۔
نسیم شاہ کو دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹیم کا حصہ بنایا گیا تو 11 نومبر کو اس وقت ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا جب وہ آسٹریلیا میں پاکستان کے لیے اپنا پہلا بین الاقوامی ٹیسٹ میچ کھیلنے کے منتظر تھے۔
انہوں نے والدہ کے انتقال کے باوجود پاکستان واپس نہ آنے کا فیصلہ کیا تھا تو پاکستان اور آسٹریلیا کی اے ٹیموں نے پریکٹس میچ میں سیاہ ربن باندھ کر نسیم شاہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
مزید پڑھیں
-
والدہ کے انتقال کے باوجود کھیلنے کا عزمNode ID: 442961
-
پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسیNode ID: 443241
-
کیا واقعی محمد رضوان کو نو بال پر آؤٹ قرار دیا گیا؟Node ID: 444406
نسیم شاہ آسٹریلوی سرزمین پر ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے نویں کم عمر ترین اور پہلے 16 سالہ کرکٹر ہیں۔
ان سے قبل پاکستان کے محمد عامر نے 2010-2009 میں 18 برس سے کم عمر میں آسٹریلیا میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔
پی سی بی کے مطابق نسیم شاہ پاکستان کی موجودہ ٹیسٹ ٹیم میں شامل تیز ترین بولر ہیں۔
پی سی بی پیپسی سٹارز انڈر 16 ایک روزہ ٹورنامنٹ کی دریافت نسیم شاہ نے 13 سال کی عمر میں ٹورنامنٹ میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں چار وکٹیں حاصل کیں اور اس کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
نوجوان فاسٹ بولر کا کہنا ہے کہ ’قومی سکواڈ میں شمولیت ان کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ ہر پروفیشنل کرکٹر ساری زندگی یہ دن دیکھنے کے لیے محنت جاری رکھتا ہے۔‘
ان کے بقول ’قومی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس نے ہمیشہ انہیں اپنی سٹرینتھ پر بولنگ کرنے کی ہدایت کی۔ دورہ آسٹریلیا میں بھی وہ اسی نسخے پر عمل کریں گے۔‘
نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ ’انہیں وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر کی ویڈیوز دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے۔‘