Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چینی صوبہ: آبادی آٹھ کروڑ، غریب صرف سترہ

جیانگ سو پہلا صوبہ ہے جس نے غربت کے تقریباً خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
چین نے گزشتہ کئی برسوں سے ’غربت کے خاتمے‘ کا اعلان کر رکھا ہے اور چین نے اس حوالے سے کامیابی بھی حاصل کی ہے، لیکن چین کے آٹھ کروڑ آبادی کے حامل ایک صوبے جیانگ سو نے یہ دعویٰ کر کے سب کو حیران کر دیا ہے کہ اس کی آبادی میں سے محض 17 افراد ہی غریب رہ گئے ہیں۔
ساحلی صوبے جیانگ سو کے اس دعوے کے بعد غربت سے متعلق سرکاری اعداد و شمار کی حقیقت پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ 
جیانگ سو پہلا صوبہ ہے جس نے غربت کے تقریباً خاتمے کا اعلان کیا ہے۔  
چینی حکومت کی جانب سے 2019 کے سرکاری اعداد و شمار ابھی تک جاری نہیں ہوئے تاہم کہا گیا ہے کہ 2018 کے آخر تک غربت میں رہنے والے لوگوں  کی تعداد کم ہو کر 16.6 ملین رہ گئی ہے جبکہ 10 ملین لوگوں کوغربت سے نکالا گیا ہے۔
غربت کے خاتمے کے دفتر کے سربراہ ژو گوبنگ نے صوبائی قانون ساز ادارے کو بتایا ہے ’ جب سے غربت کے خاتمے کا پروگرام شروع ہوا ہے تب سے صوبے کے 2.54 ملین افراد کو غربت سے نکالا گیا ہے جن کی سالانہ آمدنی 864 امریکی ڈالرز ہے۔‘
جیانگ سو صوبہ چین کا معیشت کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ ہے۔ جس کی مجموعی پیداوار 2019 کے پہلی تین سہ ماہیوں میں 6.4 فیصد سے لے کر ایک ٹریلین امریکی ڈالرز تک پھیل گئی ہے۔
چین کے مقامی ٹوئٹر ویبو پر جیانگ سو صوبے کی جانب سے غربت کے خاتمے کے ان اعداد و شمار پر بحث جاری ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ غربت کے خاتمے حوالے سے حکومتی اعداد و شمار نمبروں کا کھیل بن چکا ہے۔

جیانگ سو صوبہ چین کا معیشت کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ ہے۔ (فائل فوٹو:اے ایف پی)

ویبو پر جیانگ سو صوبے میں صرف 17 غریب لوگوں کا ہیش ٹیگ چل رہا ہے۔
 ایک صارف نے لکھا ’کیا اتفاق ہے کہ میں بھی ان 17 افراد میں سے ایک ہوں۔‘
چین کی مرکزی حکومت نے گذشتہ برس 18.1 بلین امریکی ڈالرز غربت کے خاتمے کے مہم پر لگائے۔ یہ مہم ان دیہاتی علاقوں کے لیے تھی جس میں 564 ملین لوگ رہ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی بینک کے معیار کو دیکھا جائے تو چین کا موجودہ خط غربت ایک درمیانے آمدنی والے ملک سے بہت ہی نیچے ہے۔
چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے ایک طویل مدتی پروگرام تشکیل دے گی۔
 

شیئر: