پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات میں لاہور کے بعد سب سے زیادہ کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ سنیچر تک گجرات میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 48 ہوگئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کا شکار ہونے والے 70 فیصد افراد کی عمریں 22 سے 40 سال کے درمیان ہیں جو مختلف ممالک کا سفر کر کے پاکستان آئے تھے۔
ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد نے بتایا کہ 'ضلع گجرات میں اب تک 310 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 135 کی رپورٹس منفی آئی ہیں جبکہ دیگر کی رپورٹس کا انتظار ہے۔'
مزید پڑھیں
-
پاکستان میں پھنسے مسافروں کے لیے پروازیں چلانے کا فیصلہNode ID: 467101
-
کورونا کے مریضوں کی اکثریت نوجوانNode ID: 467426
-
سندھ میں 5، پنجاب میں 8 بجے دکانیں بندNode ID: 467641
'593 گھروں کے مکینوں کو قرنطینہ میں رہنے کا کہا گیا ہے جہاں اشیائے خورونوش ضلعی انتظامیہ فراہم کر رہی ہے۔ تمام علاقے میں عارضی میڈیکل سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔'
انہوں نے مزید بتایا کہ 'عزیز بھٹی شہید ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کو ٹیسٹوں، آئسولیشن اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اگلے مرحلے میں ٹی ایچ کیو ہسپتالوں اور فیلڈ ہسپتال کے قیام کے لیے بھی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ بیرونی ممالک سے آنے والوں اور ان کے ساتھ ملنے والوں کے کوائف بھی جمع کر لیے گئے ہیں۔'
ضلعی حکام کے مطابق جن افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے ان میں سے زیادہ تر بیرون ملک سے آئے ہیں۔
اردو نیوز سے گفتگو میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ذاکر رانا نے بتایا کہ 'اب تک گجرات میں مریضوںکے علاوہ 341 مشتبہ افراد سامنے آئے ہیں۔ ضلعے کے چھ دیہات کو جزوی جبکہ ایک کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔'

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے مطابق 'تحصیل سرائے عالمگیر کا گاؤں سمبلی مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا گیا ہے جہاں ایک ہی گھر کے چھ افراد کورونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہیں۔' اسی گاؤں کے ہائی سکول کو کسی بھی بڑے خدشے کے پیش نظر قرنطینہ مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف گجرات کے قریب ایک ہزار بستروں کا قرنطینہ مرکز بھی تیار ہے جبکہ ضلعے کے دیگر قصبوں میں بھی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔'
انھوں نے بتایا کہ 'جن افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ان میں سے زیادہ تر سپین، اٹلی، ایران اور سعودی عرب سے پاکستان آئے۔ ان افراد نے کورونا کی علامات کو معمولی بخار، نزلہ زکام سمجھا اور عزیز و اقارب سے بھی ملتے رہے۔'

اردو نیوز نے کورونا وائرس کا شکار ڈنگہ کے گاؤں گُمٹی سے تعلق رکھنے والے ایک مریض ماجد تسنیم سے رابطہ کیا جو عزیز بھٹی شہید ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ 'میں پانچ مارچ کو پاکستان پہنچا اور دو دن بعد مجھے ہلکا بخار ہوا۔ میں سمجھا کہ سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے ہے لیکن وہ کم نہ ہوا اور باقی علامات بھی سامنے آنے لگیں۔17 مارچ کو ٹیسٹ کرایا جو مثبت آیا، تب سے زیر علاج ہوں اور اب بالکل ٹھیک ہوں، چند دن بعد یہاں سے فارغ ہو جاؤں گا۔'
انھوں نے کہا کہ 'میرے پورے خاندان اور قریبی افراد کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں اور سب کی رپورٹس منفی آئی ہیں۔ میں جس دن سپین سے آیا اس وقت سپین میں کورونا کے صرف تین مریض تھے۔ گمان میں بھی نہیں تھا کہ مجھے کورونا ہو جائے گا۔ یہ تو شکر ہے کہ میری وجہ سے کسی اور کو وائرس نہیں ہوا۔'
