صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن اور مارکیٹس کھلنے کا اثر 14 روز بعد سامنے آئے گا۔
14 ا پریل کو ہونے والی نرمی کے اثرات بھی 14 روز بعد ظاہر ہوئے تھے۔
جمعرات کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو حقیقت بتانا ہمارا فرض ہے جس پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
پی ٹی آئی کی ایم پی اے کا کورونا سے انتقال، کیسز 45 ہزارNode ID: 480081
-
'اب بھی ہمارے ہاں حالات بہت زیادہ خراب نہیں ہیں'Node ID: 480171
-
رکن بلوچستان اسمبلی سید فضل آغا کا کورونا سے انتقالNode ID: 480196
’یہ لوگ کہتے ہیں میں سیاست کرتا ہوں، بالکل کرتا ہوں لوگوں کو کورونا سے بچانے کے لیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے جو فیصلے کیے سب نے ان پر عمل کیا، اگر غلط ہوتے تو کوئی عمل نہیں کرتا۔
مراد علی شاہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب ہم بیماری کے حوالے سے خدشات کا ذکر کرتے تو کہا جاتا یہ ڈرا رہے ہیں، جبکہ خود اپنی تقریروں میں بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ یہ تباہی ہو رہی ہے۔
مراد علی شاہ نے غلط اعدادوشمار کی جانب اشارہ کیا تو ایک صحافی نے کہا مس رپورٹنگ ہوئی ہے، جس پر مراد علی شاہ بولے ’مس رپورٹنگ نہیں بلکہ فراڈ ہوا ہے، اس پر مزید بات پھر کبھی کروں گا۔‘
انہوں نے صوبے میں کورونا کی تازہ ترین صورت حال بتاتے ہوئے کہا کہ اب تک 336 مریض ہلاک ہوئے ہیں، 20 رینجرز اور دو سو چوہتر پولیس اہلکار متاثر ہوئے جب کہ سات ڈاکٹر ہلاک ہوئے.
