Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامی

سرکاری سطح پر اعلیٰ عہدیداروں سے ملنے والے تحائف کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے (فوٹو: کابینہ ڈویژن)
کابینہ ڈویژن نے توشہ خانے میں موجود حکومت پاکستان کے اہم عہدوں پر فائز عہدیداران کو ملنے والے تحائف کی نیلامی کا اعلان کر دیا یے۔
نیلامی میں آرمڈ فورسز اور وفاقی حکومت کے افسران سے بولی مانگی گئی ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق 150 سے زائد قیمتی تحائف کو نیلامی کے لیے چار سے چھ نومبر تک پیش کیا جائے گا جبکہ 23 نومبر تک بولیاں مانگی گئی ہیں۔
سرکاری تحائف کی نیلامی 25 نومبر کو سب سے زیادہ بولی لگانے والوں میں فروخت کر دی جائے گی۔

توشہ خانہ ہے کیا؟

توشہ خانے میں مختلف سربراہان مملکت اور غیر ملکی عہدیداروں کی جانب سے پاکستان کے وزیر اعظم، صدر، بیوروکریٹس اور وزراء کو دی جانے والی تحائف کو رکھا جاتا ہے۔
توشہ خانہ مینٹیننس اینڈ ایڈمنسٹریشن رولز کے تحت کابینہ ڈویژن کے ماتحت کام کرتا ہے جو صدر، وزیر اعظم، سپیکر قومی اسمبلی ڈپٹی سپیکر، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزراء، ارکان قومی اسمبلی اور سرکاری افسران پر لاگو ہوتا ہے۔
سرکاری سطح پر غیر ملکی سربراہان مملکت یا دیگر عہدیداروں سے ملنے والے تحائف کو توشہ خانے میں جمع کروایا جاتا ہے اور پھر اس کی نیلامی کی جاتی ہے جس کا فیصلہ ہر سال یا دو سال بعد کابینہ ڈویژن کے سیکرٹری کرتے ہیں۔

نیلامی میں کون حصہ لے سکتا ہے؟

سابق سیکرٹری اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن محمد رؤف نے اردو نیوز  کو بتایا کہ ’توشہ خانہ کی نیلامی کابینہ ڈویژن کرواتی ہے جس میں تمام ڈویژنز اور وزارتوں کو فہرست مہیا کی جاتی ہے اور صرف وزارتوں، مختلف ڈویژنز کے ماتحت کام کرنے والے ادارے اور آرمڈ فورسز سے ہی بولی طلب کی جاتی ہے، اس میں عام آدمی حصہ نہیں لے سکتا۔‘

حکام کے مطابق تحائف کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ سے کروایا جاتا ہے (فوٹو: کابینہ ڈویژن)

محمد رؤف کے مطابق توشہ خانے کی نیلامی کے رولز میں ’اوپن بڈنگ‘ شامل نہیں ہے، اس لیے اس میں عام آدمی حصہ نہیں لے سکتا۔
’تمام وزارتوں کے سیکرٹریز اور وفاقی حکومت کے اداروں سے بولی مانگی جاتی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ اگر توشہ خانے میں موجود تحائف کو اوپن بیڈنگ کی جائے تو اس میں شفافیت بھی آئے گی اور اس سے ریونیو زیادہ اکٹھا ہو گا۔‘
کابینہ ڈویژن کے ایک سابق سیکرٹری نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’کاروباری شخصیات جو توشہ خانے میں موجود تحائف لینے میں دلچسپی رکھتے ہوں عموماً سرکاری افسران سے بولی میں حصہ لینے کی درخواست کرتے ہیں اور دوستی یا دیگر تعلق کی بنیاد پر سرکاری افسران اکثر بولی میں بھی حصہ لیتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ تحائف کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ سے کروایا جاتا ہے اور اکثر تحائف کی قیمتیں طے کرنے میں بھی دشواری ہوتی ہے، زیادہ قیمتی تحائف مشرق وسطی کے سربراہان مملکت کی طرف سے دیے جاتے ہیں۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر توشہ خانہ سے گاڑیاں دینے کی سمری منظور کرنے کا الزام ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے بقول’زیادہ تر گلف ممالک کے سربراہان مہنگے تحائف دیتے ہیں اکثر ان کی قیمت لگانا بھی مشکل ہو جاتا ہے، یورپی ممالک کے سربراہان کی طرف سے تو ٹوکن تحفہ ہی دیا جاتا ہے وہ اتنا مہنگا نہیں ہوتا۔‘

کونسے تحائف توشہ خانے میں بھیجے جاتے ہیں؟

سابق سیکرٹری اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن محمد رؤف کہتے ہیں کہ کوئی بھی تحفہ جو غیر ملکی سربراہان مملکت یا دیگر عہدیداروں کی جانب سے پاکستان کے وزیر اعظم، صدر یا کسی اور سرکاری عہدیدار کو دیا جاتا ہے وہ کابینہ ڈویژن کے پاس ریکارڈ میں آجاتا ہے۔ ’اکثر قیمتی تحائف جو کہ ڈیکوریشن کے طور پر وزیر اعظم آفس یا ایوان صدر میں استعمال میں لائے جاتے ہیں، اگر کوئی سربراہ یہ چاہتا ہے کہ ان کو دیا گیا تحفہ ان کے دفتر میں ہی ڈسپلے کے لیے رکھا جائے تو بھی کابینہ ڈویژن کے ریکارڈ میں موجود ہوتا ہے کہ فلاں تحفہ فلاں دفتر میں موجود ہے۔‘

سابق وزیراعظم نواز شریف پر توشہ خانہ سے گاڑیاں استعمال کرنے کا الزام ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا ’جب کوئی سربراہ مملکت بیرون ملک دورے پر جاتا ہے یا کوئی غیر ملکی سربراہ مملکت وزیر اعظم یا صدر سے ملاقات کے لیے آتا ہے تو پروٹوکول میں موجود افسران یا ملٹری سیکرٹری کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ تمام تحائف کی فہرست کابینہ ڈویژن کو بھیجیں لیکن ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی چیزیں نہیں بھی بھیجی جاتی۔‘
توشہ خانہ رولز کے مطابق کوئی سربراہ یا عہدیدار اگر کوئی تحفہ اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو قیمت کا 15 فیصد ادا کر کے وہ تحفہ ذاتی استعمال میں رکھا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ توشہ خانہ کے تحائف کو غلط استعمال میں لانے پر سابق وزیر اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایک ریفرنس بھی زیر سماعت ہے۔

شیئر: