رواں ہفتے امریکہ اور کینیڈا میں کورونا وائرس کی ویکسین لگانے کی مہم شروع ہو جائے گی جبکہ جرمنی نے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے تعطیلات کے دوران جزوی طور پر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا اور امریکہ، برطانیہ کے بعد وہ پہلے مغربی ممالک ہوں گے جو ویکسین لگانا شروع کر دیں گے۔
امریکی ریاستوں میں پیر سے دواساز کمپنی فائزر کی کورونا وائرس کی ویکیسن لگانا شروع ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں
-
برطانیہ میں ویکسین کا الرجک ری ایکشن، ’فائدے خطرات سے زیادہ ہیں‘Node ID: 524101
-
’کورونا ویکسین لازمی نہیں اختیاری ہوگی‘ ڈاکٹر مازنNode ID: 524146
-
بحرین میں چینی ویکسین استعمال کی جائے گیNode ID: 524606
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اموات کی تعداد تقریباً تین لاکھ ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سامان لے جانے والے کوریئر سروسز فیڈ ایکس اور یو پی ایس نے ٹرکوں اور جہازوں کے ذریعے اپنا سپیشل کارگو امریکہ کے 50 ریاستوں میں بھیج دیا ہے۔
امریکہ میں کورونا وائرس کی ویکسین سب سے پہلے ہیلتھ کیئر ورکرز اور نرسنگ ہومز کے مکینوں کو لگائی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ ’ویکسین بھیج دی گئی ہے اور راستے میں ہے۔ یو ایس اے صحت یاب ہو، دنیا صحت یاب ہو۔‘
Vaccines are shipped and on their way, FIVE YEARS AHEAD OF SCHEDULE. Get well USA. Get well WORLD. We love you all!
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) December 13, 2020
ابتدائی طور پر بدھ تک دو اعشاریہ نو ملین افراد کو کورونا وائرس کی خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ رواں برس کے آخر تک 20 ملین امریکیوں کو کورونا وائرس کی ویکسین کی دو خوارکیں ملیں گی جبکہ مارچ سے پہلے 10 کروڑ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگا دی جائے گی۔
دوسری جانب کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے ویکسین کی پہلی کھیپ پہنچ چکی ہے اور پیر سے ویکسین لگانے کا آغاز ہو جائے گا۔
ویکسین سے متعلق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ میں کورونا وائرس سے ایک کروڑ 62 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
