پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹکٹ واپس لیے جانے کے بعد عبدالقادر نے بلوچستان سے سینیٹ انتخابات آزاد حیثیت سے لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ عبدالقادر کی تائید و تجویز بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین نے کی۔
پیر کو بلوچستان اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کے بیٹے سردار خان رند نے بھی سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔
بلوچستان سے ایوان بالا کی سات جنرل نشستوں سمیت مجموعی طور پر بارہ نشستوں پر تین مارچ کو انتخاب ہوگا۔ حکمران جماعت تحریک انصاف نے بلوچستان سے جنرل نشست کے لیے پہلے اسلام آباد کے رہائشی اور تعمیراتی شعبے کے ٹھیکیدار عبدالقادر کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا جس پر پی ٹی آئی بلوچستان میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔
مزید پڑھیں
-
سینیٹ ’دانا لوگوں کی کونسل‘ پاکستان میں کیوں بنائی گئی تھی؟Node ID: 540656
-
سینیٹ انتخابات: ’وزیراعظم کا فیصلہ تبدیل‘ عبدالقادر سے ٹکٹ واپسNode ID: 540836
-
سینیٹ الیکشن اور سیاسی امتحانNode ID: 541056
سینیٹ کے لیے نامزدگی کے بعد بلوچستان میں پی ٹی آئی کے چاروں ریجنز کے صدور نے عبدالقادر کو شہباز شریف کا کاروباری شراکت دار قرار دیا تھا۔
پی ٹی آئی بلوچستان کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد وزیراعظم عمران خان نے عبدالقادر سے سینیٹ کا ٹکٹ واپس لے لیا تھا اور ان کی جگہ پی ٹی آئی کے کوئٹہ ریجن کے سینیئر نائب صدر سید ظہور آغا کو امیدوار نامزد کیا۔
عبدالقادر نے ردعمل میں کہا تھا کہ ’انہیں وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ قبول ہے‘ تاہم پیر کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے آخری دن عبدالقادر نے بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین سکندر عمرانی اور لیلیٰ ترین کی تائید و تجویز سے آزاد حیثیت سے اپنے نئے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن کے کوئٹہ میں واقع دفتر میں جمع کرائے۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور سینیٹ کے لیے امیدوار منظور احمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ ’انہیں علم نہیں کہ ان کی جماعت کے اراکین نے آزاد امیدوار کی تائید و تجویز کی ہے۔ یہ معاملہ پارٹی کے اندر سامنے آیا تو بی اے پی کے صدر وزیراعلیٰ جام کمال خان فیصلہ کریں گے۔‘
میڈیا کے نمائندوں کی کوشش کے باوجود عبدالقادر نے سوالات کے جوابات نہیں دیے اور غیر رسمی طور پر گفتگو میں صرف اتنا کہا کہ 'جو الزامات لگا رہے ہیں انہیں خوش ہونے دو۔'

اسلام آباد میں مقیم عبدالقادر کاروباری شخصیت اور تعمیراتی شعبے کے بڑے ٹھیکیدار ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ان کی جائے پیدائش کوئٹہ ہے اور انہوں نے تعلیم بھی کوئٹہ سے حاصل کی اور کاروبار کا آغاز بھی بلوچستان سے کیا۔‘
عبدالقادر نے بلوچستان سے سینیٹ کے لیے ٹکٹ ملنے سے صرف ایک روز قبل پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔
قبل ازیں ان کی سیاسی وابستگی بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) سے رہی ہے۔ وہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں بھی بلوچستان سے آزاد امیدوار تھے۔
انہیں مسلم لیگ ن کے منحرف ارکان صوبائی اسمبلی (جنہوں نے بعد میں بی اے پی کی بنیاد رکھی) کی حمایت حاصل تھی، تاہم کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر وہ مطلوبہ حمایت کے باوجود سینیٹر نہ بن سکے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وفاقی وزیر فواد چوہدری اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیئر رہنما سرفراز بگٹی نے عبدالقادر کو بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کا مشترکہ امیدوار قرار دیا تھا۔
تاہم اب عبدالقادر کے آزاد حیثیت سے بطور امیدوار سامنے آنے کے بعد خود بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے امیدواروں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
