پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید پر مشتمل ایک رکنی کمیشن نے ’جعلی‘ براڈ شیٹ کمپنی کو رقم دیے جانے کے معاملے کی انکوائری مکمل کر کے رپورٹ حکومت کو بھجوا دی ہے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے شیخ عظمت سعید نے بتایا کہ ’کمیشن اب ختم ہو چکا ہے میں رپورٹ حکومت کو دے دی ہے اس کے مندرجات حکومت خود ہی سامنے لائے گی۔‘
اس رپورٹ کو پڑھنے والے ایک اعلیٰ حکومتی اہکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز سے اس رپورٹ کے کچھ مندرجات شیئر کیے۔
مزید پڑھیں
-
براڈشیٹ انکوائری کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر) عظمت سعید کون ہیں؟Node ID: 534411
-
براڈشیٹ کے معاملے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں: عمران خانNode ID: 534776
انہوں نے بتایا کہ رپورٹ پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے جن میں باسٹھ صفحات پر انکوائری جب کہ باقی صفحات رپورٹ سے متعلق مواد پر مشتمل ہیں۔
اعلی افسر کے مطابق ’کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کے برطانیہ میں سابق ہائی کمشنرعبدالباسط ، سابق حکومتی وکیل احمربلال صوفی ، وزارت قانون کے سابق جوائنٹ سیکرٹری غلام رسول اور نیب کے ڈیسک آفیسر حسن ثاقب کو پندرہ لاکھ ڈالر حکومتی خزانے سے نکلوا کر غلط ہاتھوں میں دینے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کمیشن نے کل 26 افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے ہیں جن میں ان افراد کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے کمیشن کے روبرو یہ مانا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس کو ناقابل قبول اور فاش غلطی قرار دیا ہے۔‘
رپورٹ کے ایک حصے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پندرہ لاکھ ڈالر کی رقم دے کر جو سیٹلمنٹ کی گئی اس کے بعد اس سیٹلمنٹ کا ریکارڈ غائب کر دیا گیا۔
اعلی افسر کے مطابق ’رپورٹ میں سیکرٹریز جن میں وفاقی سیکرٹری قانون، وفاقی سیکرٹری فنانس اور اٹاری جنرل آف پاکستان کے بیان بھی لف کیے گیے ہیں جنہوں نے یہ بتایا ہے کہ اس سیٹلمنٹ سے متعلق ریکارڈ چوری کیا گیا ہے۔ اسی طرح لندن ہائی کمیشن میں بھی فائل کی ایک کاپی رکھی گئی تھی وہ بھی چوری ہو گئی ہے اور لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے ویڈیو بیان میں کمیشن کو اس صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔ صرف ایک کاپی نیب کے دفتر میں موجود تھی جس سے ساری صورت حال سامنے آئی۔ کمیشن نے واضع لکھا ہے کہ حکومت اس چوری کے سامنے آنے کے بعد اپنی مرضی سے کاروائی کر سکتی ہے۔‘
براڈ شیٹ کمیشن کا بیک گراونڈ:
پاکستان کی حکومت کو اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی امریکی کمپنی نے لندن ہائی کورٹ میں نیب کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ جیت لیا۔
براڈ شیٹ کے معاملے پر لندن ہائی کورٹ کے فیصلے میں یہ بات سامنے آئی کہ براڈ شیٹ کمپنی سمجھ کر نیب نے پندرہ لاکھ ڈالرز اسی نام کی ملتی جلتی کمپنی کو ادا کر دیے تھے اور عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ یہ ادائیگی ہو چکی ہے۔
