کورونا وائرس کی وبا سے پہلے شاید ہی پاکستان میں طلبا نے اس طرح اپنے ملک کے وزیر تعلیم سے اپنے مطالبات منوائے ہوں جس طرح اس وبا کے بعد آئے روز کوئی نہ کوئی نیا مطالبہ سامنے آ رہا ہوتا ہے۔
کئی بار مطالبات مان لینے کی وجہ سے شفقت محمود طلبا کی پسندیدہ شخصیت بھی بن چکے ہیں اور اس پسندیدگی کا اظہار وہ اپنی ٹویٹس میں کرتے رہے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی بندش ہو، چھٹیوں میں توسیع یا بورڈ امتحانات کو ملتوی کرانا ہو، طلبا آئے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شفقت محمود کے نام کا ٹریںڈز چلاتے ہوئے حالات کی سنگینی کا ذکر کر کے اپنے مطالبات منواتے رہتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
’اے اور او لیول کے امتحانات‘،طلبہ کا احتجاجNode ID: 554881
-
کورونا کیسز میں اضافہ: پاکستان میں تمام امتحانات 15 جون تک ملتویNode ID: 561261
کورونا وائرس کی تیسری لہر کو مد نظر رکھتے ہوئے کورونا کے حوالے سے اقدامات کرنے والے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے رمضان اور عید الفطر کے دوران جہاں ملک کے تجاراتی و سیاحتی مراکز اور ٹرانسپورٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا وہیں تعلیمی اداروں کی بندش میں توسیع اور بورڈ امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان بھی کیا۔
اس حوالے سے آج بدھ کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر حالات کا ایک بار پھر جائزہ لے گا اور تعلیمی اداروں کو کھولنے کے بارے میں بھی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
جیسے جیسے فیصلے کا وقت قریب آرہا ہے ٹوئٹر پر بھی طلبا کی جانب سے ٹویٹس اور ٹرینڈز میں تیزی آرہی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال ابھی بھی تشویش ناک ہے اس لیے بورڈ امتحانات ملتوی کرنے کے بجائے طلبا کو اگلی کلاسسز میں پرموٹ کردیا جائے۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود واضح طور پر اعلان کر چکے ہیں کہ اس سال بغیر امتحانات کے کسی کو بھی اگلی کلاسسز میں پروموٹ نہیں کیا جائے گا۔
بورڈ امتحانات کینسل کرنے اور تعلیمی اداروں کی بندش میں توسیع کے حق میں چلائے جانے والے ٹرینڈ کا حصہ بنتے ہوئے صارف سائرہ طارق نے لکھا کہ ’پچھلے سال جب طلبا امتحانات دینے کے لیے تیار تھے تو انہوں نے کینسل کر دیے، اور اب جب کوئی بھی تیار نہیں ہے تو امتحانات لیے جارہے ہیں، یہ کونسا طریقہ ہے؟‘
Last year when every student is prepared for exams they cancel it...and this time when no on is prepared they are taking exam...what is this behaviour?#ShafqatMahmood#NCOC #CancelAllBoardExams pic.twitter.com/9hzCRtAe6x
— Saira Tariq (@SairaTariq18) May 18, 2021
کچھ صارفین نے پاکستان سپر لیگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب کرکٹ لیگ وبا کے دوران نہیں ہوسکتی تو امتحانات کیوں؟ ‘
صارف مبین علی نے لکھا کہ ’200 کھلاڑیوں کے لیے پی ایس ایل پاکستان میں نہیں ہورہا لیکن 50 60 لاکھ طلبا کے امتحانات ہورے ہیں۔ واہ کیا لوجک ہے، اگر امتحانات کینسل نہیں کر سکتے تو کم ازکم ملتوی ہی کردیں۔‘
200-250 players ka lea PSL pakistan ma nhi ho rha lekin 50-60Lac Students ka lea Exams Waah Kia logic hai. At least agr cancel nhi ho skty tou postpone hee kr du.#CancelExamsSaveStudents#ShafqatMahmood pic.twitter.com/LZnxw8Xubu
— Mobeen Ali (@MobeenA42887576) May 19, 2021
بین الصوبائی وزارئے تعلیم کے آج ہونے والے اجلاس کے ملتوی ہونے کی خبر آئی تو صارفین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔
ٹوئٹر ہینڈل کلمہ حق نے لکھا کہ ’وزرائے تعلیم کے پاس تعلیم کے فیصلے کرنے کے لیے وقت نہیں۔‘
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
انجام گلستاں کیا ہوگا
وزرائے تعلیم کے پاس تعلیم کے فیصلے کرنے کیلئے وقت نہیں ۔
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
انجام گلستاں کیا ہوگا #ShafqatMahmood pic.twitter.com/k2HGOScAGw— Qasimgulfaam (@kalma_e_haqq) May 19, 2021
جہاں کچھ صارفین تعلیمی ادارے مزید بند کرنے کے حق میں تھے وہیں کچھ صارفین نجی سکولز کے ٹیچرز کے بے روزگار ہونے کے بارے میں گفتگو کرتے نظر آئے۔
صارف بلال اشرف نے لکھا کہ ’اللّٰہ اس آفت کو ہم سب سے دور کرے مگر پرائیویٹ سکول ٹیچرز کے بارے میں سوچیے۔ دو ماہ ہو گئے jobless ہوۓ کیونکہ سکول بند ہے اور سکول انتظامیہ نے ٹیچرز کو بلایا نہیں۔ ان کے بارے میں بھی سوچے۔‘
اللّٰہ اس آفت کو ہم سب سے دور کریں مگر پرائیویٹ سکول ٹیچرز کے بارے میں سوچے۔۔ دو ماہ ہو گئے jobless ہوۓ کیونکہ سکول بند ہے اور سکول انتظامیہ ٹیچرز کو بلایا نہیں،
ان کے بارے میں بھی سوچے۔@Shafqat_Mahmood#ShafqatMahmood— Bilal Ashraf (@Bilal_a31) May 19, 2021