رواں برس زائرین کے لیے مکمل طور پر ویکسین شدہ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ریاض کی اُم اعظم اور ان کے شوہر ابو کو حج کی ادائیگی کی اجازت ملی۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’24 جون کی رات کو ہمیں میسج موصول ہوا تھا اورمیری خوشی ناقابل بیان تھی۔ ہم حج کے لیے امید کر رہے تھے اور دعا کر رہے تھے اور ہماری دعائیں سن لی گئیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’جب اللہ پر یقین رکھتے ہیں تو پھر کیوں وبا کے دوران حج کی ادائیگی سے خوفزدہ ہوں۔‘
امریکی شہری مریم محمد اور ان کی والدہ ام مزن مملکت میں رہتی ہیں، ان کو بھی حج کے لیے منتخب کیا گیا۔
مریم محمد کا کہنا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ حج کی ادائیگی کر رہی ہیں۔ ’میں بہت پرجوش ہوں۔ میں ہمیشہ چاہتی تھی کہ حج ادا کروں لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر حج ادا نہیں کیا تھا تاہم اس مرتبہ ہوگیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خوف ان کو اس موقعے سے نہیں روک پائے گا۔
ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’جب حج کے لیے درخواست دے رہی تھی تو میرے ذہن میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خوف نہیں آیا۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونا ممکن نہیں لیکن یہ یقینی طور پر میری تشویش نہیں کیونکہ بہت سارے لوگ جا رہے ہیں اور میں نے خود کو محفوظ محسوس کیا اور سخت حفاظتی اقدامات کی ضرور پیروی کرنی چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت نے بہتر طریقے سے وائرس پر قابو پایا ہے تو حج سیزن کے دوران بھی مزید احتیاط برتے گی۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شروع میں سعودی شہریت کی وجہ سے ان کی بیٹی کی درخواست مسترد ہوگئی تھی اور ہمیں بتایا گیا کہ بہت سارے سعودی شہری حج ادا کر رہے ہیں اور حکام چاہتے ہیں کہ دیگر افراد کو حج کی ادائیگی کا موقع دیا جائے اور اندازہ نہیں تھا کہ غیرملکیوں کے لیے کوٹا ہے۔
تاہم بعد میں ان کی امریکی والدہ کی وجہ سے ان کو حج کی اجازت دی گئی۔
جدہ سے 55 برس کے ابو حسن خوش قسمت نہیں تھے۔ انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ انہوں نے آن لائن حج کے لیے اندراج ہوا تھا لیکن ان کی درخواست کی منظوری کے باوجود ان کو بعد میں ایک میسج موصول ہوا کہ آپ کی درخواست منظور نہ ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 27 برس قبل حج ادا کیا تھا اور وہ رواں برس حج ادا کرنا چاہتے تھے۔