یہاں پتھر سے بنے مختلف آلات دریافت ہوئے ہیں۔ چٹانوں پر نقوش اور شکلیں بھی ملی ہیں۔ ان کا تعلق جدید حجری دور سے ہے۔
اسلامی دور کی تحریریں بھی پتھروں پر نقش ہیں۔ سبز رنگ کے مٹی کے برتن بھی تاریخی کھدائیوں کے دوران حاصل ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق اسلام کے ابتدائی دور سے ہے۔
سب سے زیادہ تاریخی مقامات قصیم ریجن میں دریافت ہوئے، ان کی تعداد چھ ہے۔
جبل شوفان، السفالہ، مشرقی الربیعیہ ایک، مشرقی الربیعیہ دو اور رجم الشیوخ ہیں ان کے علاوہ الطراق تحصیل میں چٹانوں کا آرٹ دریافت ہوا ہے- ریاض اور تبوک میں تین، تین تاریخی مقامات ریکارڈ پرآئے ہیں۔
سعودی محکمہ آثار قدیمہ سال رواں کی پہلی سہ ماہی تک 624 تاریخی مقامات کا اندراج کراچکی ہے۔ نئی دریافت کے بعد مملکت بھر میں دریافت ہونے والے تاریخی مقامات کی تعداد 8176 تک پہنچ گئی ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ سعودی عرب میں تاریخی مقامات کی دریافت کی مہم چھ برس قبل جاری کردہ شاہی فرمان کی ہدایت پر شروع کیے ہوئے ہے۔