Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوڈان میں بھوک ہڑتال کرنے والے سیاستدان جیل سے رہا

فوج  کو سیاست سے نکلنے کا مطالبہ احتجاج کی صورت میں جاری ہے۔ (فوٹو عرب نیوز)
سوڈان کے سابق وزیر برائے کابینہ امور خالد عمر یوسف کو بھوک کا آغاز کرنے کے پہلے ہی روز نظر بندی سے رہا کر دیا گیا۔ ان کے ہمراہ کچھ دیگر افرا دبھی بھوک ہڑتال پر تھے۔
روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق سوڈان کی وزارت اطلاعات نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 25 اکتوبر کو سوڈان کی فوج نے ملک پر قبضہ کرنے کے بعد  آزادی و تبدیلی فورسز (ایف ایف سی)  اتحاد کی جانب سے فوجیوں اور شہریوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم کا معاہدہ  روکنے کے لیے متعدد وزرا ء اور اعلی سویلین حکام کو حراست میں  لیا گیا تھا۔
بیان میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دو مزید عہدیدار جن میں سابق گورنر خرطوم ایمن نمیراور اینٹی کرپشن ٹاسک فورس کے رکن ابوالجوخ شامل تھے انہیں بھی رہا کر دیا گیا ہے جب کہ کئی ہائی پروفائل سیاستدان تاحال زیرحراست ہیں۔
سوڈانی کانگریس پارٹی کے مطابق فوجی رہنماؤں اور سویلین وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے درمیان ایک معاہدہ پر دستخط ہو گئے تھے جس میں تمام سویلین قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس معاہدے کے باوجودعام شہریوں اور عہدیداروں کی مسلسل نظربندی کے خلاف احتجاج کے طور پر سابق وزیر خالد عمر یوسف اور ان کے دیگر ساتھیوں نے بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔
فوجی رہنماوں اور وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے درمیان معاہدے کے بعد فوج  کو سیاست سے نکلنے اور شہریوں کی ہلاکت کے لیے جوابدہ ہونے کا مطالبہ احتجاج کی صورت میں جاری ہے۔

مظاہروں کو منتشر کرنے کے دوران 63 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ (فوٹو عرب نیوز)

اس احتجاج کے نتیجے میں گزشتہ پیر اور جمعہ کو کئی دیگر معروف شہریوں، سیاست دانوں اور کارکنوں کو رہا کیا گیا۔
علاوہ ازیں سوڈان میں ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو ہونے والے مظاہروں کو منتشر کرنے کے دوران 63 افراد زخمی ہوئے جب کہ ایک شخص گولی لگنے سے بھی زخمی ہوا۔
 

شیئر: