Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سکیورٹی گارڈ سے ریستوران کے مالک تک کا سفر

پہلے ہی دن بنایا ہوا کھانا محض 2 گھنٹے میں ختم ہو گیا(فوٹو، ٹوئٹر)
 ماضی میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرنے والے سعودی شہری خالد کا کہنا ہے کہ ’خلوص نیت، محنت اور جذبہ صادق نے ان کو آگے بڑھنے میں مدد کی۔‘
خالد نامی سعودی شہری نے الاخباریہ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایک نجی کمپنی میں سکیورٹی گارڈ کے طورپر خدمات انجام دیتا تھا۔
’ابتدا میں تو تنخواہ وقت پر ملتی تھی مگر بعد میں ایسا بھی ہوا کہ تنخواہ ملنے میں تاخیر ہونے لگی اور اس تاخیر کا سلسلہ دراز ہوتا گیا جس سے گھر میں کافی تنگی کا سامنا کرنا پڑا۔‘
خالد نے مزید بتایا کہ تنخواہ میں تاخیر سے کافی  پریشانی  کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کی وجہ سے اضافی آمدنی کے ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے۔
’گھر میں مالی دشواری ہو تو وقت بھی گزارنا دشوار ہو جاتا ہے۔ ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے اضافی آمدنی کے ذرائع پر سوچنا شروع کیا۔‘
شہری خالد کا کہنا تھا کہ’ اہلیہ کھانا پکانے میں غیرمعمولی مہارت رکھتی ہیں۔ ان کا بنایا ہوا کھانا سب کو بہت پسند آتا تھا۔ اسی سوچ نے میرے ذہن میں یہ خیال پیدا کیا کہ کیوں نہ اہلیہ کے ساتھ مل کر ہوٹل کا سائیڈ بزنس شروع کیا جائے۔‘

اہلیہ کھانا بنانے میں غیر معمولی مہارت رکھتی ہیں۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

انہوں نے کہا کہ اہلیہ سے اپنے خیال کا ذکر کیا اور اس منصوبے کو جلد ہی عملی شکل دے دی۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خالد کی اہلیہ نے بتایا کہ ’جب منصوبے پر غور کیا تو وہ قابل عمل لگا اور سوچ کو عملی شکل دینے کےلیے ہم نے گھر میں کھانا تیار کیا اور اسے العزیزیہ کے بازار میں لے گئے جہاں پورا کھانا محض دو گھنٹے میں ہی ختم ہوگیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے ہی دن جو کامیابی ہمیں ملی اس نے ہمارے حوصلے بلند کر دیے اوردوسرے دن ہم نے زیادہ کھانا بنایا اور اسی جگہ چلے گئے یوں ہمارا منصوبہ کامیابی کی منازل طے کرتا ہی گیا۔‘
ان کے مطابق ’کچھ ہی عرصے میں ایک چھوٹا سا ہوٹل بنا لیا اور محض پانچ برس میں ہمارے ابتدائی ہوٹل کی متعدد شاخیں آج مملکت کے مختلف شہروں میں قائم ہیں۔‘

شیئر: