یوکرین میں پاکستان کے سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سفارت خانہ ترنوپل میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
یوکرین میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جمعے کو اپنے فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے اس پیغام کے ساتھ سفارت خانے کے رابطہ نمبرز اور ای میل ایڈریس بھی دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
یوکرینی سوشل میڈیا صارفین کے لیے نئے ’حفاظتی فیچرز‘Node ID: 647831
واضح رہے جمعرات کی صبح روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے یوکرین میں ’خصوصی ملٹری آپریشن‘ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے بعد سے اب تک یوکرین کے کئی علاقوں پر روس کی جانب سے فضائی اور زمینی حملے کیے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب یوکرین میں موجود پاکستانی طلبہ اور شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان کے یوکرین میں موجود سفارت خانے نے جمعے کی صبح ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جب تک صورتحال سنبھل نہیں جاتی، تمام پاکستانی طلبہ ترنوپل منتقل ہو جائیں تاکہ انہیں یوکرین سے نکالا جا سکے۔‘
Announcement
As situation improves, all Pakistani students should move to Tarnopil to enable evacuation.@ForeignOfficePk— Pakistan Embassy Ukraine (@PakinUkraine) February 24, 2022
اس سے قبل یوکرین میں موجود پاکستانی طلبہ و طالبات نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ انہیں روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں بحفاظت پاکستان لے جانے کے انتظامات کیے جائیں۔
مشرقی یوکرین کے شہر خارکوو میں ایک پاکستانی طالب علم زین خان نے جمعرات کی شام اردو نیوز کو بتایا کہ ’روس نے یوکرین کو تینوں اطراف سے گھیر رکھا ہے اور روسی سرحد اس شہر سے صرف چند ہی گھنٹوں کے فاصلے پر واقع ہے اور اس سے قریبی علاقوں میں شدید شیلنگ جاری ہے۔‘
دوسری جانب یوکرین میں پاکستانی سفارتخانے نے وہاں موجود پاکستانیوں کو پیغام دیا تھا کہ ملک کی ایئر سپیس جنگی حالات کے باعث بند کر دی گئی ہے۔
ٹوئٹر پر پاکستانی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ ’سفارتخانہ ان طلبہ و طالبات کے ساتھ رابطے میں ہے جو ہمارے مشورے کے باوجود ملک نہ چھوڑ سکے۔‘
سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ ’ان لوگوں کو ترنوپل جانے کا کہا گیا ہے جہاں ان کے ممکنہ انخلاء کے لیے انتظامات کیے جائیں گے۔‘
گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی شہری نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کے لیے ترنوپل پہنچنا ممکن نہیں ہے۔
’خارکوو میں موجود مجاہد عباس کا کہنا ہے کہ ’ترنوپل یہاں سے ہزار یا 12 سو کلو میٹر پر واقع ہے اور یہاں ٹرین اور بس سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔‘
