سندھ ہاؤس حملہ: تحریک انصاف کے دو ارکان اسمبلی کے نام بھی ایف آئی آر میں شامل
تحریک انصاف کے کراچی سے ارکان اسمبلی فہیم خان سندھ ہاؤس کے باہر مظاہرے میں شریک تھے۔ (فوٹو: سکرین گریب)
اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع سندھ ہاؤس پر حملے کے سلسلے پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے دو ارکان قومی اسمبلی کے نام ایف آئی آر میں شامل کر دیے ہیں۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایم این اے فہیم خان اور عطااللہ نیازی کے نام ایف آئی آر میں شامل کیے گئے ہیں۔
واقعے کی ایف آر کی ضمنی کے حوالے سے پولیس حکام کے مطابق دونوں ارکان اسمبلی کو شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔
ضمنی میں لکھا گیا ہے کہ سندھ ہاؤس میں حملے کی تمام فوٹیج میں ارکان اسمبلی واضح نظر آ رہے ہیں۔ حملے میں ملوث بیشتر کارکنان ان دونوں ایم این ایز کی گاڑیوں میں آئے۔
حکام کے مطابق ایک واقعے کی دو ایف آئی آرز نہیں ہو سکتی اس لئے ضمنی ایف آئی آرز میں دونوں ایم این ایز کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
جمعہ کو تحریک انصاف کے 12 باغی اراکین سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان سندھ ہاؤس پر دھاوا بولتے ہوئے مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے تھے۔
دھاوہ بولنے سے قبل سندھ ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد ہاتھوں میں لوٹے اٹھائے شدید نعرے بازی کی تھی۔
تحریک انصاف کے کراچی سے دو ارکان اسمبلی فہیم خان بھی سندھ ہاؤس کے باہر مظاہرے میں شریک تھے۔
پولیس نے دونوں ارکان اسمبلی سمیت 15 افراد کو گرفتار کیا تھا تاہم دونوں ارکان کو چھوڑ دیا گیا تھا جبکہ 13 کارکنان کو اگلے روز عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔
پولیس نے ان کارکنوں کے خلاف کارسرکار میں مداخلت، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر مقدمہ درج کیا تھا۔
حملے کو تحریک انصاف کی جانب سے فطری ردعمل قرار دیا گیا تھا تاہم سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کارکنان کو سندھ ہاؤس سے فوری طور پر نکلنے کا کہا تھا۔