Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اجلاس اب پیر کو، تحریک عدم اعتماد پر آئین کے مطابق کارروائی ہو گی: سپیکر

وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائے جانے کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس وفات پا جانے والے رکن قومی اسمبلی خیال زمان کے لیے دعائے مغفرت کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔
جمعے کو اجلاس کے دوران سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ وہ تحریک عدم اعتماد پر آئین و قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔ 
قومی اسمبلی کے سپیکر نے کہا کہ یہ روایت رہی ہے کہ کسی رکن قومی اسمبلی کی وفات کے بعد بلایا جانے والا اجلاس فاتحہ خوانی کے بعد اگلے روز تک کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے اور ایجنڈے کی کارروائی مؤخر کی جاتی ہے۔
انہوں نے اجلاس پیر 28 مارچ کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا اور اپنی نشست سے اٹھ کر چلے گئے۔

’سپیکر نے جمہوری اقدار کو پاؤں تلے روندا‘

اجلاس کو پیر تک ملتوی کیے جانے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بلاول بھٹو و دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سپیکر نے پی ٹی آئی کا ورکر بن کر آئینی، جمہوری و قانونی روایات کو پاؤں تلے روندا ہے۔
شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر پر الزام لگایا کہ کہ انہوں نے سازش کی، ان کے کردار کو سیاہ الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔
اپوزیشن لیڈر نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر پیر کو تحریک عدم اعتماد کی راہ میں پھر کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو  ہم ہر قانونی و آئینی راستہ اختیار کریں گے۔‘
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آج ایک بار پھر کپتان پچ چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے سپیکر کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ فائل فوٹو: اے پی پی

ان کے مطابق فاتحہ پڑھنا روایت ہے مگر اس کے بعد کارروائی رکھی جا سکتی تھی۔
انہوں نے سپیکر اسد قیصر کو وزیراعظم کا سہولت کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع ہوتے ہی ان کے چہروں پر خوف نظر آنا شروع ہو گیا تھا۔
ان کے مطابق ’اس کے بعد پارلیمان اور سندھ ہاؤس پر حملے کیے گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کب تک بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ 
’ہم ان کو بھاگنے نہیں دیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ پیر کو وزیراعظم ’سابق‘ ہو جائیں گے۔

شیئر: