عمران خان کی ویڈیو شیئرنگ کے باعث موضوع گفتگو بننے والی امریکی خاتون
پیر 2 مئی 2022 20:44
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
ڈاکٹر ربیکا گرانٹ خود کو دفاعی تجزیہ کار بتاتی ہیں (فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹیلی ویژن چینل فاکس نیوز کے ایک پروگرام کا کلپ سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ ان کے حامیوں اور مخالفین کے ساتھ عام ٹویپس بھی ویڈیو میں تجزیہ پیش کرنے والی امریکی خاتون سے متعلق جاننے میں دلچسپی لیتے دکھائی دیے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’اگر کسی کو حکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش پر شک تھا تو اس ویڈیو سے تمام شکوک ختم ہو جانے چاہییں کہ کیوں ایک جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم اور اس کی حکومت کو ہٹایا گیا۔ واضح ہے کہ امریکہ کو ایسا فرمانبردار کٹھ پتلی وزیراعظم چاہیے جو یورپی جنگ میں پاکستان کی نیوٹرل رہنے کی خواہش کو نہ مانے۔‘
ایک الگ ٹویٹ میں انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ ’بائیڈن انتظامیہ سے میرا سوال ہےکہ ’22 کروڑلوگوں کے ملک میں ایک منتخب جمہوری وزیراعظم کو ہٹانے اور ایک کٹھ پتلی کو لانے کے لیے حکومت کی تبدیلی کی ایک سازش کا حصہ بن کر کیا خیال ہے کہ آپ نے پاکستان میں امریکہ کے خلاف نفرت میں کمی کی ہے یا اضافہ کیا ہے؟‘

سابق وزیراعظم کی جانب سے فاکس نیوز کے ایک پروگرام کی ویڈیو شیئر کیے جانے اور اس سے پہلے اور بعد میں کی گئی متعدد ٹویٹس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی اور غیرملکی اس پر جاری گفتگو کا حصہ بنے۔
عمران خان کے حامیوں نے امریکی خاتون تجزیہ کار کے تجزیے کو پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کا ثبوت قرار دیا، جب کہ دیگر ٹویپس نے موقف اپنایا کہ محض ایک اجنبی تجزیہ کار کی بات کو کسی ملک کے مبینہ اقدام کا ثبوت کیسے مانا جاسکتا ہے۔
پاکستانی تجزیہ کار رضا احمد رومی نے عمران خان حکومت کے سابق وزرا کی جانب سے شیئر کردہ ویڈیو کے سکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے انہیں ‘ڈس انفارمیشن کی فیکٹریز‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جس فرد کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ امریکی حکومت کی نمائندہ نہیں اور جس چینل کا ذکر ہے وہ امریکہ کے اندر بھی جھوٹ اور نفرت پھیلانے کے لیے معروف ہے۔ سابق وزرا اس طرح کے پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹا کر پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ اچھا نہیں کررہے۔‘
پی ٹی آئی کے حامی ٹویپس فاکس نیوز کے پروگرام میں اپنی پارٹی کے موقف کے مطابق تجزیہ پیش کرنے والی امریکی خاتون کی پروفائل نکال لائے۔ جس کے مطابق ’ڈاکٹر ربیکا گرانٹ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے لیے کام کر چکی ہیں۔ اس دوران وہ کئی کلاسیفائیڈ رپورٹس بھی مرتب کرچکی ہیں۔‘

زبیر زیب نے اپنے تبصرے میں خاتون تجزیہ کار کی بات کو زیادہ اہمیت نہ دی تو لکھا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی پاکستانی تجزیہ کاروں کی گفتگو کی بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکشن میں دھاندلی سے متعلق دعوے کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرے۔
امریکی تھنک ٹینک سے وابستہ مائیکل کگلمین نے عمران خان کی ٹویٹ پر تبصرے میں لکھا کہ ’اس سے امریکی حکومت کی سازش سے متعلق کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ وہ امریکی آفیشل نہیں البتہ جلد پاکستان میں بڑا نام بنا جائیں گی۔‘

پاکستانی قانون دان اور پی ٹی آئی کی سابق رکن قومی اسمبلی ملیکہ بخاری نے لکھا کہ ’امریکی دفاعی اور سکیورٹی تجزیہ کار کا یہ بیان ہمارے موقف کی واضح تائید کرتا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی آزاد خارجہ پالیسی ہی حکومت کے خاتمے کی وجہ بنی ہے۔‘
امریکی تھنک ٹینک کے سکیورٹی اور جنوبی ایشیا کے امور سے متعلق محقق ایڈم این وائن سٹائن نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ ’جس فرد کا انٹرویو ہے یہ کوئی ایسی قابل ذکر نہیں جسے فاکس نیوز نے جگہ پر کرنے کے لیے تلاش کیا ہے۔ اس کی وابستگیاں دو دہائیاں پرانی ہے۔‘
سابق وزیرمملکت علی محمد خان نے ڈاکٹر ربیکا گرانٹ کی پروفائل شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہارورڈ یونیورسٹی کی گریجویٹ، لندن سکول آف اکنامکس کی پی ایچ ڈی۔ تین برس تک پینٹاگون میں کام۔ دفاعی میگزین کے لیے 100 تحریریں اور متعدد امریکی چینلز پر تجزیہ پیش کرچکی ہیں۔‘

علی محمد خان کی جانب سے شیئرکردہ تفصیلات پر ایڈم این وائن سٹائن نے جواب میں لکھا کہ ’ڈی سی میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں پر یہ پروفائل اپلائی کی جا سکتی ہے۔‘
اٹلانٹک کونسل کے پروگرام جنوبی ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر عزیر یونس نے معاملے پر اپنے تبصرے میں لکھا کہ ’فاکس نیوز کو دیکھ کر امریکی پالیسی سے متعلق فیصلے کرنا زید حامد اور کچھ دفاعی تجزیہ کاروں کو دیکھ کر پاکستان کی مغرب سے متعلق پالیسی پر کسی نتیجے تک پہنچنے جیسا ہے۔‘