Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈین روپے کی قدر میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی کمی

انڈین روپیہ 82 اعشاریہ 76 سے 82 اعشاریہ 87 پر آ گیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ڈالر کے مقابلے میں انڈین روپے کی قدر میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے انڈیا کے تاجروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ صورت حال کی بڑی وجہ تیل اور دوسرے برآمدکنندگان کی جانب سے ڈالر میں وصولیوں کا مطالبہ ہے۔
جعے کو ڈالر کے مقابلے میں انڈین روپیہ 82.76  سے 82.87  پر آ گیا ہے جس سے ہفتہ وار کمی صفر اعشاریہ سات فیصد ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق پبلک سیکٹرز کے بینکوں سے ڈالر کی باقاعدہ سپلائی نہ ہونے کی صورت میں روپیہ مزید نیچے جا سکتا ہے۔
رواں ہفتے کے دوران روپے کی قدر سوائے بدھ کے تمام دنوں میں گری اور اس کی وجہ امریکہ میں توقع سے کم افراط زر کی ریڈنگ تھی۔
انڈین مشیر خزانہ انیل بھنسالی کا کہنا ہے کہ تیل سے متعلق خریداری کے لیے ڈالر کے مسلسل مطالبے اور پبلک سیکٹر کی (ڈالر اور روپے) کی آفرز کی وجہ سے آج روپے کی تجارتی رینج کم رہی۔
رواں ہفتے انڈیا کی کرنسی امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپین سینٹرل بینک کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے باعث دب گئی تھی۔
دونوں کی جانب سے 50 بیسس تک ریٹس بڑھائے گئے تھے، جس نے خدشات کو ہوا دی تھی اور اس کے بعد انڈین حصص میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اس ہفتے روپے کے فارورڈ پریمیم میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے بڑھنے کا سلسلہ پچھلے ہفتے اس وقت تیز ہوا تھا جب انڈیا کے ریزرو بینک نے خریدوفروخت کے لیے ان کا تبادلہ کیا تھا۔
ایک سال کے دوران امریکی ڈالر کی قدر روپے کے مقابلے میں 16 بی پی ایس تک بڑھی ہے اور اس ہفتے کی شرح دو فیصد ہے۔

شیئر: