Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا عدالتی حکم کے باوجود انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہو سکتی ہے؟

جسٹس جواد حسن نے کہا کہ ’اگر عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوگا تو پھر دیکھوں گا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
الیکشن کمیشن نے صوبہ پنجاب میں لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد انتخابات کے انعقاد کے لیے صوبے کے گورنر کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کے بعد ہائیکورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پنجاب کے گورنر ہاؤس کی جانب سے جاری ایک مختصر اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے میٹنگ میں الیکشن کمیشن حکام، چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب شریک ہوئے۔
اعلامیے کے مطابق ’لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں ہونے والے اجلاس میں عدالتی فیصلے کی تشریح اور وضاحت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 10 فروری کو الیکشن کمیشن کو حکم جاری کیا تھا کہ گورنر پنجاب سے مشاورت کے بعد فوری طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔
لاہور ہائیکورٹ کے حکم کو چار روز گزر چکے ہیں، تاہم الیکشن کمیشن اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کمیشن کے پاس عدالتی حکم پر عمل کے سوا کیا چارہ ہے؟
پاکستان میں جمہوری عمل پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میرے خیال میں ایک طرح سے عدالتی حکم پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ عدالتی حکم میں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن گورنر سے مشاورت کے بعد تاریخ جاری کرے تو مشاورت کے لیے اجلاس کر لیا گیا ہے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ اس مشاورت میں کن امور پر عدالت سے دوبارہ تشریح مانگی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن جب عدالت سے رجوع کرے گا تو صورت حال سامنے آئے گی۔‘
کیا الیکشن کمیشن  آئین کے مطابق دیے گئے وقت یعنی 90 روز سے زائد تاخیر کے لیے حربے استعمال کر رہا ہے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ کہہ سکوں کہ یہ کوئی حربہ ہے۔ یہ بات درست ہے کہ آئین کی منشا نوے روز ہے، لیکن دوسری طرف انتخابات کی تاریخ کا اجرا بھی صرف الیکشن کمیشن کا ہی مینڈیٹ ہے۔ اس سے پہلے نظیر موجود ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے الیکشن کرانے کی تاریخ کو بدلا۔ لیکن اس کے لیے ٹھوس وجہ کا ہونا ضروری ہے۔‘
ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کی منشا کے خلاف تاخیر نہیں کر سکتا۔ ’بار بار یہ بات کی جا رہی ہے کہ غیر معمولی حالات میں الیکشن کمیشن تاخیر کا مجاز ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کس کو علم ہے کہ غیر معمولی حالات آنے والے ہیں؟ ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ان کے تاثر کی بنیاد پر آپ ایک مفروضہ گھڑ کے انتخابات میں تاخیر نہیں کر سکتے۔ اور نہ میرا خیال ہے کہ عدالتیں ایسے کرنے دیں گی۔‘

سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کی منشا کے خلاف تاخیر نہیں کر سکتا (فوٹو: اے ایف پی)

گورنر پنجاب اور الیکشن کمیشن کی مشاورت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت کا حکم اس وقت لاگو ہے ہاں اگر مشاورتی عمل میں کمیشن اور گورنر کو لگتا ہے کہ عدالتی حکم کی مزید تشریح کی ضرورت کے تو دوبارہ عدالت جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن میرا نہیں خیال اس مشاورت کے عمل سے انتخابات میں کوئی تاخیر کی جا سکتی ہے۔‘
دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے کہا گیا گیا ہے کہ صدر مملکت کو براہ راست احکامات دیے جائیں کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے انتخابات کے انعقاد کی تاریخ دے۔
تاہم جسٹس جواد حسن نے سماعت کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن  میٹنگ کر رہا ہے۔ تاریخ گورنر نے دینی ہے۔ میں بھی 90 دن انتظار کروں گا۔ اگر عملدرآمد نہیں ہوگا تو پھر دیکھوں گا۔‘ ان ریمارکس کے بعد درخواست گزار نے اپنے درخواست واپس لے لی۔

شیئر: