پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں شلوبر قبیلے نے ڈسٹریبیوشن پوائنٹ پر خواتین کو آٹا نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے مفت آٹے کی فراہمی کے بعد ڈسٹریبیوشن پوائنٹس پرشہریوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آرہی ہیں تو وہیں بدنظمی اور ہنگامہ آرائی کے واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں۔ ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں بھی خواتین میں آٹے کی تقسیم کے دوران بدانتظامی نظر آئی جس کے بعد مقامی عمائدین نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا۔
شلوبر قبیلے کے قومی کونسل نے اس معاملے پر ہنگامی اجلاس بلایا جو کونسل کے چیئرمین سیدشاہ آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں قبیلے کے عمائدین نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں
جرگے میں عمائدین نے آٹے کی لائنوں میں خواتین کے طویل انتظار اور بدانتظامی پر برہمی کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا کہ کسی بھی ڈسٹریبیوشن سنٹر پر خواتین کو آٹا نہیں دیا جائے گا، لہذا کوئی خاتون خود نہ آئے بلکہ اپنے گھر سے کسی مرد کو بھیجے جس کے پاس خاتون کا کارڈ موجود ہو۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ایک پوائنٹ یا ویلج کونسل کے رہائشی کو دوسرے پوائنٹ سے آٹا نہیں دیا جائے گا۔
مقامی صحافی خادم خان آفریدی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ڈسٹریبیوشن پوائنٹس پر بہت رش ہوتا ہے اور خواتین کو گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے۔
شلوبر قومی کونسل کے جرگے میں قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ آٹے کے لیے خواتین کی بے عزتی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز بدانتظامی کی وجہ سے خواتین نے پاک افغان شاہراہ کو بند کیا تھا۔ ایسے متعدد واقعات سامنے آئے جن میں خواتین کو سڑکوں پر نکلنا پڑا ۔
صحافی خادم خان آفریدی کا کہنا تھا کہ مقامی کونسل کے فیصلے کی رو سے فوکل پوائنٹ پر مرد خواتین کے کارڈ دکھا کر مفت آٹا لے جا سکتے ہیں۔
مقامی شہری ظریف آفریدی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہمارے علاقے میں خواتین کا بازار جانا معیوب سمجھا جاتا ہے کیونکہ قبائل کے اپنے رسم و رواج ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آٹے کے لیے ’خواتین قطاروں میں رُل گئی ہیں بلکہ پولیس کی جانب سے دھکم پیل بھی ہوئی جو کہ ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔‘
