ٹوکیو..... عالمی شہرت یافتہ مقامی آٹو موبائل کمپنی نے ملک میں تیار ہونے والی اڑن کارکے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسکی ڈیزائننگ کمپنی کے 30ملازمین نے اپنے فاضل اوقات میں برسوں کی محنت سے کی ہے اور اسکی تجرباتی اڑان 2018ءکے آخرتک ممکن ہوگی۔ اسے تیار کرنے والوں کا کہناہے کہ اس منصوبے پر بڑی تیزی سے کام جاری ہے کیونکہ اڑنے والی اس کار کو 2020ءکے ٹوکیو اولمپکس کی شمع روشن کرنے کیلئے استعمال کیا جانا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ مقامی کمپنی کے اس اعلان سے گاڑیوں کا فضا میں اڑنے کا خواب اپنی تعبیر کے بہت قریب پہنچتا نظر آرہا ہے اور یہ اس سلسلے میں انتہائی اہم او رموثر قدم ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونگے۔ اتنا کچھ کرنے کے ساتھ ہی اس کمپنی نے اپنے ان ملازمین کو خاص اس منصوبے پر کام کیلئے وقف کردیا ہے جو اس اڑنے والی کار کی ڈیزائننگ میں شریک تھے۔بغیر ڈرائیور یا ہواباز کے اڑنے والی سواری کا تصور کوئی نیا نہیں مگر اتنی پیشرفت کے بعد ایک ایسی گاڑی معرض وجود میں آنے ہی والی ہے جو اس خواب کو حقیقت کا روپ دے سکے گی۔ اسکائی ڈرائیو نامی کار طیارے کی انفرادیت یہ بھی ہوگی کہ اس میں پائلٹ موجود رہیگا۔واضح ہو کہ اڑنے والی کاروں کا تصور سب سے پہلے جاپانی آٹو انجینیئر سباسا ناکامورا اور انکے کچھ ساتھیوں نے 2012ءمیں پیش کیا تھا اور ڈیزائننگ کا مقابلہ بھی اسی بنیاد پر جیتا تھا۔کمپنی نے اس منصوبے کیلئے ساڑھے 3لاکھ ڈالر کی مالی معاونت کا اعلان کیا ہے تاہم اس میں وقت کے ساتھ اضافہ ممکن ہے۔ کمپنی کا کہناہے کہ اگر وہ او راس جیسی دیگر کمپنیاں ایسے منصوبوں کی معاونت نہیں کرینگی تو انسان کے بہت سے خواب ، خواب ہی رہ جائیں گے۔