Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جڑانوالہ میں توہین مذہب کے معاملے پر حالات کشیدہ، رینجرز طلب

دو مسیحی بھائیوں کے خلاف توہین مذہب کی ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
پاکستان کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں مبینہ طور پر توہین مذہب کے ایک معاملے میں پولیس کے مطابق حالات کشیدہ ہیں۔
پولیس کی بھاری نفری نے شہر کے کشیدہ علاقوں میں گشت کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق علاقے میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ کو تبدیل کر دیا ہے۔ جبکہ نئے اسسٹنٹ کمشنر نے پنجاب حکومت کو رینجرز کی تعیناتی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔
دوسری طرف پولیس نے دو مسیحی بھائیوں کے خلاف توہین مذہب کی ایف آئی آر بھی درج کر لی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق جڑانوالہ میں منگل کی رات سے ہی حالات کشیدہ ہیں۔ کئی مسیحی خاندان رات گئے ہی علاقہ چھوڑ کر نکل گئے۔ جبکہ بدھ کی صبح لوگوں نے مسیحی  بستی میں ایک چرچ کو آگ لگا دی جبکہ ایک میں توڑ پھوڑ کی ہے۔
اس کے لیے ضلعی حکومت کے دفاتر میں بھی توڑ پھوڑ کی اطلاعات ہیں۔ پولیس مقامی مذہبی اقابرین کے ہمراہ ہجوم کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم ابھی تک یہ کوششیں بے سود ہیں۔
علاقے سے موصول ہونے والی ویڈیو فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی گھروں سے سامان گلی میں رکھ کر اسے بھی جلایا جا رہا ہے۔
ترجمان فیصل آباد پولیس کے مطابق پولیس کی کوشش ہے کہ علاقے میں امن و عامہ کی صورت حالت درست رہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشتعل افراد نے چند مسیحی گھروں اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرموں کو گرفتار کرنے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔‘
مقامی صحافی محمد کاشف نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’کل رات سے حالات کشیدہ تھے لیکن کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا تاہم بدھ کی صبح کچھ افراد نے لوگوں کو مشتعل کرنے کے لیے مساجد کے سپیکروں میں اعلان کروائے اور کرسچن آبادی کی طرف جاتے سینما چوک میں لوگوں کو اکھٹا ہونے کی ترغیب دی جس کے لوگ وہاں اکھٹے ہوئے اور تھوڑی دیر بعد صورت حال یکسر بدل گئی۔ مشتعل افراد نے توڑ پھوڑ شروع کر دی اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔

شیئر: