پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا معاشرے کا ایک انتہائی محدود اور دھندلا آئینہ ہے کیونکہ وہ لوگ جو انگریزی نہیں پڑھ سکتے ان کے فیصلے علیحدہ ہیں، اور جو لوگ سوشل میڈیا پر ہیں ان کی دنیا علیحدہ ہے۔
اردو نیوز کے ساتھ گوجرانوالہ میں خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’ہم سوشل میڈیا پر جو ٹرینڈز دیکھتے ہیں، چاہے وہ گوجرانولہ شہر یا پاکستان ہے، اس کی گلی محلوں میں ٹرینڈز علیحدہ ہیں اور سوشل میڈیا پر علیحدہ ۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا ایک قابل قدر ٹول ضرور ہے لیکن سوشل میڈیا کی بنیاد پر سیاسی قیاس آرائی نہ کی جائے۔ قیاس آرائی کا بہترین علاج 8 فروری کو بیلٹ باکس سے ضرور آئے گا۔‘
مزید پڑھیں
-
خواجہ آصف اور ریحانہ ڈار کا مقابلہ، سیالکوٹ کس طرف کھڑا ہو گا؟Node ID: 831186
خرم دستگیر خان نے کہا کہ ’ہمیں سمجھ آجانی چاہیے کہ ریڈیو پاکستان پشاور کو آگ لگانے سے یہ ملک آگے نہیں جائے گا۔ پشاور کی مویشی منڈی میں ڈیرھ سو بے زبان جانوروں کو آگ لگانے سے یہ ملک نہیں چلے گا، جناح ہاؤس کو جلانے سے ملک آگے نہیں جائے گا، جی ایچ کیو پر حملہ آور ہونے سے ملک آگے نہیں جائے گا، سینکٹروں پولیس آفسروں پر حملہ کرنے سے یہ ملک آگے نہیں جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک سوچی سمجھی سکیم تھی، ایک مخصوص جتھے کی طرف سے کہ ہم نے بحران پیدا کرنا ہے، کیونکہ میں نے تو بحران پیدا نہیں کیا نہ ہی میں نے جا کر آگ لگائی ہے۔ میں نے جاکر پولیس آفسر پر پیٹرول نہیں پھینکا۔ جن لوگوں نے پلان کے تحت یہ پیدا کیا انہیں یہ ذمہ داری قبول کرنے چاہیے۔‘
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’در حقیقت یہ ایک بحران ہے۔ اس الیکشن کے ذریعے یہ موقع ہے کہ ہم عوام کے ووٹ سے اس کو ختم کریں اور اس سے آگے نکلیں۔ اور پاکستان میں ایک صحیح جمہوریت قائم ہو جو 2018 سے پہلے تھی۔‘
گوجرانوالہ میں تعلیمی اداروں کے قیام کے حوالے سے خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ ’گوجرانوالہ شہر میں، ہم نے 2008 سے 2018 کے درمیان سارے سکول نئے بنا دیے ہیں۔ وہاں سہولیات فراہم کی ہیں، جو بچے کچی زمین پر بیٹھ کر پڑھتے تھے آج وہ پکے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس تھوڑا وقت ہو تو فرید ٹاؤن میں جا کر لڑکیوں کا سکول دیکھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بنیادی حق فراہم کیا ہے۔ یونیورسٹی کے حوالے سے لڑکیوں کا پوسٹ گریجویٹ کالج موجود ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کا سب کیمپس موجود ہے۔ رچنا انجینیئرنگ کالج موجود ہے جو شہر سے ذرا دور ہے۔‘
’یہ کہنا کہ گوجرانوالہ شہر میں اعلی تعلیم کی سہولیات موجود نہیں ہیں یہ غلط ہے۔ یونیورسٹی ضرور ہونی چاہیے۔ مجھے بڑی خوشی ہے کہ یہ جو ڈیمانڈ ہے یونیورسٹی کی یہ تبھی آئی ہے جب شہر کے بنیادی مسائل مسلم لیگ ن حل کر چکی ہے۔‘
