Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بشام حملے کے آٹھ دن بعد چینی ورکرز نے ڈیم منصوبے پر کام شروع کر دیا

اس علاقے میں زیرتعمیر داسو اور دیامر بھاشا ڈیم منصوبوں میں سینکڑوں چینی شہری کام کر رہے ہیں(فائل فوٹو: داسو ہائیڈرو الیکٹرک پاورپروجیکٹ)
چین کی تعمیراتی کمپنیوں نے مہلک خودکش دھماکوں کے آٹھ دن بعد پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں توانائی کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ چینی انجینیئرز اور ورکرز نے اضافی سکیورٹی کی فراہمی کے بعد بدھ کو دوبارہ کام کا آغاز کیا ہے۔
چین کی کمپنیوں ’پاور چائنا‘ اور ’چائنا گیزوبا گروپ‘ نے 26 مارچ کو انجینیئرز کی گاڑی پر خودکش حملے کے بعد کام روک دیا تھا۔ اس حملے میں پانچ چینی انجینیئرز اور ان کا ڈرائیور ہلاک ہو گئے تھے۔
اس علاقے میں زیرتعمیر داسو اور دیامر بھاشا ڈیم منصوبوں میں سینکڑوں چینی شہری کام کر رہے ہیں۔
اے ایف پی کو دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے ایک ترجمان نزاکت حسین نے بتایا کہ ’پاور چائنا کمپنی نے پیر کو اپنا کام شروع کر دیا تھا اور ان کی سکیورٹی میں غیرمعمولی اضافہ کیا گیا ہے۔‘
ایک سکیورٹی عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’حکومت کو توقع ہے کہ وہ چین کی گیزوبا گروپ کمپنی کو داسو ڈیم پر کام کے لیے آئندہ ہفتے تک قائل کر لے گی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ان سائٹس پر سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد اور پیٹرولنگ ٹیموں میں اضافہ کیا گیا ہے۔‘
دوسری جانب منگل کو پاکستان کی پولیس نے ’چند افغان باشندوں‘سمیت خودکش حملے کے تعلق کے شبے میں 12 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس علاقے کا دورہ کیا اور چینی ورکرز سے اپنے خطاب میں فول پروف سکیورٹی کی فراہمی اور حملے میں ملوث کرداروں کو جلد گرفتار کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

شیئر: