امریکی، روسی سربراہی اجلاس، آخر ریاض میں کیوں؟
’ریاض متحرک مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں امریکی اور روسی وفود، اعلیٰ سطحی حکام اور مختلف ماہرین پہنچ رہے ہیں‘ ( فوٹو: العربیہ)
اس وقت ساری دنیا کی نظریں ریاض پر مرکوز ہیں جہاں متوقع امریکی، روسی سربراہی اجلاس کا انعقاد ہو گا، جس کی کامیابی کا انحصار ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی شخصیت پر ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق تاریخی اجلاس کے نتیجے میں سامنے آنے والے فیصلے، معاہدے اور سفارشات بڑی حد تک دنیا کے مستقبل اور ممالک کی پالیسیوں کا تعین کریں گی۔
سربراہی اجلاس کی اہمیت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن شرکت کر رہے ہیں۔
یہ اجلاس طویل عرصے سے جاری نظریاتی اختلافات، سیاسی کشیدگی اور عالمی قطب بندی کے بعد ہو رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے محسوس کیا کہ ان اختلافات کو ختم کرنے اور ایک نئے دور کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے جو باہمی تعاون اور اتحاد پر مبنی ہو۔
اسی تناظر میں، دونوں صدور نے فیصلہ کیا کہ ان کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کرنے کے لیے سب سے موزوں مقام سعودی عرب ہوگا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ عالمی سطح کے اہم عہدیداروں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کی میزبانی کر رہے ہیں اور رپورٹس جاری کر رہے ہیں جن میں اس بات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ آخر سعودی عرب کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا ہے؟۔
ان رپورٹس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ یہ انتخاب سیاسی ذہانت کا مظہر ہے کیونکہ امریکہ اور روس، دونوں کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ مضبوط اور خوشگوار تعلقات ہیں۔

مزید یہ کہ سعودی عرب کا ان دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلق ہے جو اسے امریکہ اور روس کے درمیان مفاہمت کرانے اور ان کے درمیان مستقل امن کے قیام میں ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی شخصیت عالمی سطح پر بے پناہ احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے، خاص طور پر ان کی وہ کوششیں جو انہوں نے بین الاقوامی سطح پر امن اور مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے کی ہیں۔
گزشتہ برسوں کے دوران ولی عہد کی قیادت میں متعدد ایسے سفارتی اقدامات سامنے آئے جنہوں نے متحارب اور متنازع ممالک کے درمیان تعمیری مکالمے کو فروغ دیا جس کی بدولت انہیں عالمی سطح پر زبردست اعتماد حاصل ہوا۔
یہ رپورٹس اس بات پر بھی روشنی ڈالتی ہیں کہ ولی عہد کی امریکی اور روسی صدور کے ساتھ گہری دوستی ہے اور وہ ان کی بصیرت، دانائی اور معاملات کو کامیابی سے آگے بڑھانے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔
یہی وہ عوامل ہیں جن پر دنیا کے مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں انحصار کر رہی ہیں تاکہ اس سربراہی اجلاس کو کامیاب بنایا جا سکے اور اس کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں جنہیں پوری دنیا شدت سے دیکھ رہی ہے۔
آجکل ریاض متحرک مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں امریکی اور روسی وفود، اعلیٰ سطحی حکام اور مختلف ماہرین پہنچ رہے ہیں۔
تمام فریق سعودی عہدیداروں کے ساتھ مل کر اس تاریخی سربراہی اجلاس کی تیاریوں میں مصروف ہیں تاکہ ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے اور اس کا مقصدعالمی امن کو فروغ دینا اور دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس معاہدے طے پاناہے۔