Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب ممالک کا سعودی عرب کی میزبانی میں روس، امریکہ مذاکرات کا خیرمقدم

بات چیت کو آگے بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوں گے (فوٹو: ایس پی اے)
خلیجی اورعرب ملکوں نے منگل کو یوکرین کے تنازع پر امریکہ اور روس کے درمیان ریاض مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے سعودی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
امارات کی خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات تین سال سے جاری تنازع کے خاتمے کےلیے اختلافات ختم کرنے، رابطوں اور بات چیت کو آگے بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔
یاد رہے  روس اور امریکہ نے یوکرین جنگ کے خاتمے اور اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے کےلیے کام شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے فریقین نے تین مقاصد کے حصول کے لیے وسیع پیمانے پر اتفاق کیا، ان میں واشنگٹن اور ماسکو میں اپنے سفارتخانوں میں عملے کی بحالی، یوکرین امن مذاکرات کی سپورٹ کے لیے اعلی سطح کی کمیٹی کی تشکیل، قریبی تعلقات اور اقتصادی تعاون تلاش کرنا شامل ہیں۔
امارات کی وزارت خارجہ نے بیان میں مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا۔
بیان میں تنازعات کے پرامن حل اور عالمی چیلنجوں سے نمنٹے کےلیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے امارات کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے سعودی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کوششوں سے امن قائم ہوگا۔
کویت کی وزارت خارجہ نے بھی مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔
کویت نے اس امید کا اظہار کیا کہ’ ان مذاکرات سے دنیا میں سلامتی اور استحکام کو بڑھانے کے حوالے سے مطلوبہ اہداف حاصل ہوں گے۔‘
اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کی میزبانی میں اہم کردار پر سعودی عرب کی ستائش کی۔
بیان میں دنیا میں جامع اور منصفانہ امن کے فروغ کے لیے مملکت کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کیا گیا۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ’ یہ مذاکرات سعودی عوب کی قیادت کی دانشمندانہ پالیسی کا نتیجہ ہیں۔‘
’یہ ایک ایسی پالیسی ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی استحکام کو بڑھاتی ہے۔ امن و سلامتی کے حصول میں موثر کردار کےلیے ریاض کے عزم کا اظہار ہے۔‘

شیئر: