Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بیرونِ ملک روزگار، کون سی پروفیشنل ڈگریوں کی مانگ زیادہ ہے؟

محمد ساجد مجید کے مطابق یورپ اور امریکہ میں گریجویشن، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی پروفیشنل ڈگریاں رکھنے والے نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے زیادہ مواقع ہیں۔ (فوٹو: عرب نیوز)
’انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد جب میں پہلی مرتبہ پاکستان سے مشرق وسطیٰ روزگار کی تلاش کے لیے گیا تو معلوم ہوا کہ اگر یہاں اچھی ملازمت حاصل کرنی ہے تو اس کے مطابق ڈگری بھی ہونی چاہیے۔‘
’دو ماہ تک قیام کے بعد پاکستان واپس لوٹ آیا۔ اسلام آباد کی ایک سرکاری یونیورسٹی سے سول انجینیئرنگ کی پروفیشنل ڈگری حاصل کی۔ پھر 2022 میں دوبارہ مشرق وسطیٰ کا رُخ کیا تو اس بار اچھی ملازمت کا حصول ممکن ہوا۔‘
یہ کہنا تھا کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان امجد جاوید کا جو سول انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں مشرق وسطیٰ گئے اور ایک اچھی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں انجینیئرنگ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ملازمت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اگر آپ کے پاس بھی یہ ڈگری ہے تو پھر آپ ایک اچھی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘
امجد جاوید کی طرح اگر آپ بھی پاکستان سے ایسی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بیرونِ ملک جائیں گے جس کی وہاں مانگ ہو تو آپ کے لیے بہتر ملازمت کا حصول آسان ہو جائے گا۔
اُردو نیوز نے امیگریشن کے ماہرین سے معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کون سی پروفیشنل ڈگریاں ہیں جو بیرون ملک ملازمتوں کے حصول میں مدد گار ہوتی ہیں۔
ایجوکیشن کنسلٹنسی میں کام کا تجربہ رکھنے والے امیگریشن کے ماہر محمد انس ادریس کے خیال میں موجودہ بین الاقوامی منظرنامے میں ایک موزوں ترین ڈگری ہی آپ کو بیرون ملک ایک اچھی ملازمت دلوا سکتی ہے۔
’اس تناظر میں مختلف ممالک کے لیے مختلف تعلیمی ڈگریاں موزوں سمجھی جاتی ہیں۔‘

مشرق وسطیٰ میں پائیدار انرجی، پروجیکٹ منیجمنٹ اور انجینئرنگ کی ڈگریوں کی مانگ

محمد انس ادریس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قدرتی وسائل اور تعمیراتی کاموں کے سبب ان سے متعلقہ ڈگریوں کی زیادہ مانگ ہے۔

انس ادریس کے مطابق برطانیہ میں بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ڈگریوں کی خاصی مانگ ہے۔ (فوٹو: ایکس)

’مشرق وسطیٰ کے ممالک میں میں پائیدار انرجی، پراجیکٹ منیجمنٹ، پیٹرولیم انجینیئرنگ، سول انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینیئرنگ اور آٹو موٹیو انجینیئرنگ کی ڈگریاں رکھنے والے نوجوانوں کو ملازمت دیتے وقت ترجیح دی جاتی ہے۔‘

یورپ اور امریکہ میں کون سی ڈگریوں کی مانگ زیادہ ہے؟

انس ادریس کے مطابق ٹیک بیسڈ اکانومیز والے ممالک بشمول امریکہ، جرمنی، فرانس اور کینیڈا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائینسز اور کمپیوٹر سائنسز سے متعلقہ ڈگریوں کی زیادہ مانگ ہے۔
’برطانیہ میں بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ڈگریوں کی خاصی مانگ ہے تاہم برطانیہ وکالت (بار ایٹ لا) کے حوالے سے دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے اس لیے وہاں اس شعبے کی مانگ بھی زیادہ ہے۔‘
ڈپلومیٹک اینڈ امیگریشن لاز ایکسپرٹ بیرسٹر محمد ساجد مجید کے مطابق یورپ اور امریکہ میں گریجویشن، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی پروفیشنل ڈگریاں رکھنے والے نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے زیادہ مواقع ہیں۔
اُنہوں نے اُردو نیوز کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں لیبر کے علاوہ پروفیشنل ڈگریاں رکھنے والے نوجوانوں کو ملازمت میں ترجیح دی جاتی ہے۔
’پاکستان سے بیرون ملک نہ صرف روزگار بلکہ تعلیم کے حصول کے لیے بھی جانے والے نوجوان انہی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہیں۔ آپ نے اگر بیرون ملک جانے سے قبل وہاں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری نہیں کی تو  ملازمت ملنا ایک دشوار عمل ثابت ہو سکتا ہے۔‘

شیئر: