Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مغوی بزورِ طاقت رہا کرانے کی کوشش کی تو ’تابوت میں‘ واپس جائیں گے: حماس

غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد 830 فلسطینی مارے جا چکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
فلسطین کے عسکریت پسند گروپ حماس نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر اسرائیل نے اپنے مغویوں کو بزورِ طاقت بازیاب کرانے کی کوشش کی اور غزہ کی پٹی پر فضائی حملے بھی جاری رکھے تو مغوی مارے جا سکتے ہیں۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حماس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ’ہماری پوری کوشش ہے کہ یرغمال بنائے گئے افراد زندہ رہیں، تاہم اسرائیلی بمباری اُن کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔‘ 
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جب بھی قابض افواج نے اپنے گرفتار افراد کو طاقت کے زور پر رہا کرانے کی کوشش کی تو اس کا نتیجہ اُنہیں تابوتوں میں واپس لے جانے کی صورت میں نکلا۔‘
واضح رہے کہ اسرائیل نے جنوری میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد گذشتہ ہفتے غزہ کے گنجان آباد علاقے پر شدید فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے بعد زمینی کارروائیاں بھی کی گئیں۔ 
حماس کے زیرِانتظام علاقے میں وزارتِ صحت کے مطابق ’اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے بعد کم سے کم 830 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔‘
یہ جنگ عسکریت پسند گروپ حماس کی جانب سے اسرائیل پر 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہوئی جس کے نتیجے میں وہاں 1218 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔
غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ’اسرائیل کی جوابی فوجی کارروائی کے دوران غزہ میں کم سے کم 50 ہزار 183 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔‘

 

شیئر: