1)9 تاریخ کا سورج طلوع ہونے کے بعد منیٰ سے تلبیہ یا تکبیر کہتے ہوئے روانہ ہونا۔
2) اگر تلبیہ میں یہ الفاظ بھی شامل کرلے تو کوئی حرج نہیں:
{إنما الخیر خیر الآخرۃ}
3) امام کا وادی نمرہ میں جا کر زوال تک ٹھہرنا، یہ مقام عرفات کے قریب ہے مگرعرفات کا حصہ نہیں ۔
4)زوال شمس کے بعد امام وہاں سے روانہ ہو کر عُرنہ میں جا اترے گا اور وہاں2خطبے دے گا،یہ بھی عرفات سے باہر ہے ، مسجد نمرہ کا ایک حصہ عرفات سے باہر ہے ۔یہیں پرامام خطبہ دیتاہے۔
5)پھر ایک اذان اور2 اقامتوں کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازکو جمع اور قصر کرکے پڑھنا، ان سے پہلے یا بعد کوئی نفلی نماز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔
6)سنت یہ ہے کہ عرفہ میں موجود حاجی اس دن روزہ نہ رکھے۔
٭٭٭٭٭٭