Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حنوکا کے دوران مذہبی پیشوا کے گھر حملہ

امریکہ میں یہودیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت سے نمٹنا پولیس کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکی ریاست نیویارک میں یہودی مذہبی پیشوا کے گھر پر جاری مذہبی تہوار کی تقریب کے دوران حملے میں پانچ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق واقعہ سنیچر کی رات نیویارک میں پیش آیا جب ہہودی مذہبی پیشوا (ربی) کے گھر پر مذہبی تہوار ’حنوکا‘ کے سلسلے میں تقریب جاری تھی، جس میں درجنوں افراد موجود تھے۔
حملہ آور چاقو لہراتے ہوئے نیویارک کے علاقے مونسی میں ربی کے گھر زبردستی داخل ہو گیا اور تقریب میں شامل افراد پر چاکو سے حملے کیے۔
مونسی کے علاقے میں یہودیوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔
آرتھوڈاکس جوئیش پبلک افیئرز کونسل نے اپنے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بیان جاری کیا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق یہودی مذہب سے تھا اور تمام کو قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔
زخمیوں میں ربی کا بیٹا بھی شامل ہے، جبکہ دو زخمیوں کی حالت قابل تشویش بتائی گئی ہے۔
مقامی پولیس نے جاری بیان میں کہا ہے کہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو نے واقعے کو قابل حقارت اور بزدلانہ قرار دیا۔ واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری نفرت پر مبنی جرائم سے نمٹنے والی پولیس کو سونپ دی گئی ہیں۔
گورنر نے ٹویٹ میں کہا کہ ’نیویارک میں یہود دشمن واقعات بلکل برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ہم حملہ آور کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرائیں گے۔‘
تقریب میں موجود 65 سالہ شخص نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ حملہ آور کے ہاتھ میں جو چھری تھی وہ ایک جھاڑو جتنی تھی۔
اسرائیل کے صدر نے بھی واقعے پر غصے کا اظہار کیا۔
’بڑھتی ہوئی یہود دشمنی صرف یہودیوں کا مسئلہ نہیں ہے، اور نہ ہی صرف اسرائیل کی ریاست کا مسئلہ ہے۔‘
’ہمیں اس سے نجات کے لیے اکھٹے کام کرنا چاہیے۔ یہ ساری دنیا کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔‘
امریکہ میں یہودیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور ان پر حملوں سے نمٹنا پولیس کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔

شیئر: