امریکی ریاست نیویارک میں یہودی مذہبی پیشوا کے گھر پر جاری مذہبی تہوار کی تقریب کے دوران حملے میں پانچ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق واقعہ سنیچر کی رات نیویارک میں پیش آیا جب ہہودی مذہبی پیشوا (ربی) کے گھر پر مذہبی تہوار ’حنوکا‘ کے سلسلے میں تقریب جاری تھی، جس میں درجنوں افراد موجود تھے۔
حملہ آور چاقو لہراتے ہوئے نیویارک کے علاقے مونسی میں ربی کے گھر زبردستی داخل ہو گیا اور تقریب میں شامل افراد پر چاکو سے حملے کیے۔
مونسی کے علاقے میں یہودیوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔
آرتھوڈاکس جوئیش پبلک افیئرز کونسل نے اپنے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بیان جاری کیا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق یہودی مذہب سے تھا اور تمام کو قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔
One of the victims was stabbed at least 6 times. The fifth/least severe case had a cut in his hand. Perp left in a vehicle with tag number HPT-5757 per the person who saw it and we confirmed it with him directly (but it was dark and rushed.) a Gray Nissan Sentra.
— OJPAC Hudson Valley (@OJPACHV) December 29, 2019
زخمیوں میں ربی کا بیٹا بھی شامل ہے، جبکہ دو زخمیوں کی حالت قابل تشویش بتائی گئی ہے۔
مقامی پولیس نے جاری بیان میں کہا ہے کہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو نے واقعے کو قابل حقارت اور بزدلانہ قرار دیا۔ واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری نفرت پر مبنی جرائم سے نمٹنے والی پولیس کو سونپ دی گئی ہیں۔
گورنر نے ٹویٹ میں کہا کہ ’نیویارک میں یہود دشمن واقعات بلکل برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ہم حملہ آور کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرائیں گے۔‘
I am horrified by the stabbing of multiple people at a synagogue in Rockland County tonight.
We have zero tolerance for anti-Semitism in NY and we will hold the attacker accountable to the fullest extent of the law.
NY stands with the Jewish community. pic.twitter.com/JILUoFXJc9
— Andrew Cuomo (@NYGovCuomo) December 29, 2019