فلسطینی اتھارٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ مشرق وسطیٰ امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا کہ ’ہم نے اسرائیل کو آگاہ کر دیا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھیں گے اور امریکہ کے ساتھ بھی، جس میں سکیورٹی تعلقات بھی شامل ہیں۔‘
واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز مقبوضہ مغربی کنارے میں طویل عرصے سے ایک دوسرے سے تعاون کر رہی تھیں۔
مزید پڑھیں
-
فلسطینیوں کے لیے امن منصوبہNode ID: 455811
-
’امریکی سرپرستی میں اسرائیل فلسطین مذاکرات کی حمایت‘Node ID: 455841
-
فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیر خارجہNode ID: 456521
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان کے لیے ایسی ریاست تجویز کی ہے جو مکمل خودمختاری سے محروم ہوگی۔ یہ ریاست حصوں بخروں میں ہوگی۔ جسے راہداریوں، سڑکوں اور انڈر پاس سے جوڑا جائے گا۔
الشرق الاوسط کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی امن منصوبے کا جواب ایک جملے میں یہ کہہ کر دیا ’کوئی ایک فلسطینی بھی امریکی صدر کو ایسا نہیں ملے گا جو بیت المقدس کے بغیر موجودہ شکل میں امن منصوبے کو قبول کرلے‘۔
فلسطینی’دریا سے سمندر تک‘ اپنی ریاست کے تاریخی نقشے کو ازبر کیے ہوئے ہیں۔

امن منصوبے پر امریکی صدر کا کہنا ہے کہ دو ریاستی فارمولے پر مشتمل امن منصوبہ حقیقت پسندانہ ہے۔ فلسطینیوں کا موقف ہے کہ اس منصوبے میں ان کے بنیادی حقوق ختم کر دیے گئے ہیں۔
القدس کو امریکی امن منصوبے میں اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔ القدس کے بغیر مسئلہ فلسطین کا کوئی بھی حل اہل فلسطین کو قبول نہیں۔
امریکی امن منصوبے میں جون 1967 کی سرحدوں میں ردو بدل کیا گیا ہے۔ فلسطینی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس میں کسی ردوبدل کے روا دار نہیں۔
فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور غرب اردن میں اسرائیلی آبادیوں کو ہٹانے پر فلسطینی بضد ہیں جبکہ امریکی امن منصوبے میں ان دونوں مطالبات سے انکار کیا گیا ہے۔
امریکی امن منصوبے میں بیت المقدس، یہودی بستیوں، 1967 کی سرحدوں، بری اور فضائی حدود اور غرب اردن پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کو یہ سب کچھ قبول نہیں۔
امریکی امن منصوبہ 181صفحات پر مشتمل ہے۔ کئی اہم نکات سے فلسطینیو ں کو اختلاف ہے۔
امن منصوبے میں بیت المقدس کو اسرائیل کا مشترکہ دارالحکومت مانا گیا ہے اور القدس کے قریب واقع قصبے ابو دیس کو جس کا رقبہ چار مربع کلومیٹر سے زیادہ کا نہیں فلسطینی دارالحکومت تجویز کیا گیا ہے۔

الشرق اوسط کے مطابق فلسطینی اس منصوبے کو مسترد کرتے ہیں اور مشرقی القدس کو جہاں مسجد اقصیٰ اور مقدس مقامات موجود ہیں اپنا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ اسے سرخ نشان مانتے ہیں۔
امریکی امن منصوبے میں اسرائیل کو غور الاردن سمیت غرب اردن کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی بالادستی تسلیم کی گئی ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی بستیاں بھی آتی ہیں جہاں چار لاکھ یہودی آباد کار بسے ہوئے ہیں۔
فلسطینی اپنی ریاست کا اٹوٹ حصہ ہونے کے ناتے اغوار کے علاقے کو 99 سالہ تک کے پٹے پر دینے کی تجویز پہلے سے ہی مسترد کر چکے ہیں۔
امریکی امن منصوبے میں علاقوں کے تبادلے کی با ت کہی گئی ہے۔ اس کے تحت فلسطینیوں کو صحراءا لنقب کے کچھ علاقے دیے جائیں گے جبکہ اس کے بدلے فلسطینیوں کو یہودی بستیاں اپنے علاقوں میں برقرار رکھنے کی پابندی لگائی گئی ہے۔ فلسطینی اپنے علاقوں میں یہودی بستیوں کو مسترد کر چکے ہیں۔
امن منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اسرائیل یہودی ریاست ہے۔ یہ فلسطینیوں کی تاریخی اور مذہبی روایت کے سراسر منافی ہے اور ایسا کرنے پر اسرائیل میں موجود عرب باشندوں کا مستقبل خطرات سے دوچار ہو جائے گا۔

صدر ٹرمپ کے منصوبے میں فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ اسرائیل سے باہر حل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ دس برس تک سالانہ پانچ لاکھ پناہ گزین مسلم ریاستوں میں آباد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا حق مسترد کر دیا گیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے ماضی میں تجویز کیا تھاکہ ایک مقررہ تعداد میں پناہ گزینوں کو وطن واپس آنے کا حق دیا جائے اور دیگر کو معاوضہ دینے پر اکتفا کیا جائے مگر یہ بات تسلیم نہیں کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں
-
فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیر خارجہNode ID: 456521