ایگزٹ ری انٹری کی تاریخ خودکار طریقے سے بڑھائی جائے گی؟
ایگزٹ ری انٹری کی تاریخ خودکار طریقے سے بڑھائی جائے گی؟
جمعہ 24 اپریل 2020 7:58
ارسلان ہاشمی ۔ اردو نیوز، جدہ
دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح سعودی عرب میں بھی کورونا وائرس کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں دنیا کے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب نے حفاظتی تدابیر کے تحت سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں جن میں کرفیو اور سفری پابندیاں بھی شامل ہیں۔
قارئین اردونیوز کی جانب سے سعودی عرب میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے مختلف موضوعات پر مبنی سوالات ارسال کر رہے ہیں۔ جن کے جوابات حاضرہیں، قارئین سے گزارش ہے کہ اپنے سوالات کے ساتھ نام اور شہر کی بھی وضاحت کردیں علاوہ ازیں سوال واضح طور پردرج کریں تاکہ جواب دینے میں سہولت ہو۔
بعض سوالات کے جوابات پہلے بھی اردونیوز میں دیے جاچکے ہیں تاہم مزید موصول ہونے والے استفسارات کے لیے انہیں مزید تفصیل سے بیان کیا جا رہا ہے۔
سلمان گجر کا کہنا ہے کہ پاکستان جانے کےلیے ایگزٹ ری انٹری ویزہ حاصل کیا جس کی تاریخ11 جون 2020 کو ختم ہوجائے گی اس دوران پروازیں بند ہونے کی وجہ سے سفر نہ کرسکا اور نہ ہی ایگزٹ ری انٹری کینسل کیا ، اقامے کی مدت 3 ماہ تک کے لیے بڑھا دی گئی حکومت کی طرف سے پوچھنا یہ ہے کہ پاکستان جانے کی صورت میں ایگزٹ ری انٹری کی تاریخ خود کار طریقے سے بڑھائی جائے گی یا نہیں ؟
جواب ۔ جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ سعودی عرب اور دنیا بھر کے حالات کورونا وائرس کی وجہ سے خراب ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر بھی سفر پر پابندی عائد ہے ایسے میں سفری سہولت نہ ہونے کی وجہ سے جولوگ نہیں جاسکے ان کے اقاموں کی مدت میں خودکار طریقے سے 3 ماہ کی توسیع کردی گئی ہے، جیسا کہ آپ کے اقامے میں ہوئی ہے، جہاں تک ایگزٹ ری انٹری کا سوال ہے تو اس حوالے سے محکمہ جوازات کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جن افراد کے ایگزٹ ری انٹری ویزے 25 فروری 2020 سے لے کر 24 مئی 2020 تک لگے ہوئے ہیں اور وہ انہیں استعمال نہیں کرسکے ان کے ویزوں کی مدت میں خود کار طریقے سے بغیر اضافی فیس کے 3 ماہ کا اضافہ کر دیا جائے گا۔
تاہم آپ کا ویزے کی ایکسپائری تاریخ جیسا کہ آپ نے بتایا گیارہ جون تک ہے جو مذکورہ بالا کیٹگری میں نہیں آتا۔ مذکورہ جواب آپ کے سوال کے حوالے سے تھا تاہم اگر آپ حالیہ فراہم کی جانے والی سہولت کے تحت وطن جانا چاہتے ہیں تو فوری طور پر وزارت داخلہ کے اکاؤنٹ ’ابشر‘ پر لاگ ان کرکے اپنی تفصیلات اپ لوڈ کرسکتے ہیں جن میں سفر کرنےوالے کا نام، تاریخ پیدائش، اقامہ نمبر، درست موبائل نمبر جو ابشر اکاؤنٹ میں درج ہے کےعلاوہ جس شہر سےسفر کرنا ہے اور جس شہر جانا ہے درج کرکے اپ لوڈ کر دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ اپنا خروج وعودہ کینسل کرلیں اور جب حالات بہتر ہوں اس وقت دوبارہ لگوا سکتے ہیں۔
سفری سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اقاموں کی مدت میں خودکار طریقے سے 3 ماہ کی توسیع کردی گئی ہے (فوٹو:روئٹرز)
عبدالمجید کا سوال ہے کہ میرا خروج لگا ہوا ہے ڈیڑھ ماہ ہوچکا، اب اگر اس کی تاریخ ختم ہو جائے تو کیا طریقہ ہو گا؟
جواب۔ سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جن افراد کا فائنل ایگزٹ یا ری انٹری ویزہ لگا ہوا ہے ان کی واپسی کےلیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
اس ضمن میں وزارت داخلہ نے ’ابشر‘ اکاؤنٹ پر یہ سہولت فراہم کی ہے کہ وہ افراد جن کے پاس خروج نہائی یا خروج عودہ موجود ہیں وہ اپنے سفر کے لیے رجوع کریں۔ آپ بھی فوری طور پر ابشر اکاؤنٹ کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں جہاں سے آپ کے سفر کے لیے فضائی سروس کے ذریعے بکنگ کرنے کے بعد آپ کو موبائل پر کنفرمیشن نمبر ارسال کر دیا جائے گا جس کے بعد آپ مقررہ تاریخ کے لیے ٹکٹ خرید کر ایئر پورٹ جاسکتے ہیں۔
عثمان علی پوچھتے ہیں کہ نئے آنے والوں کا اقامہ بنا ہے انہیں تین ماہ کا ٹائم ملا ہے؟
جواب۔ عثمان صاحب آپ کا سوال واضح نہیں ہے، آپ کہہ رہے ہیں کہ اقامہ بنا ہوا ہے اور تین ماہ کا ٹائم ملا ہے اس سے کیا مراد ہے ، قانون کے مطابق نئے آنے والے کارکنوں کے لیے 90 دن یعنی تین ماہ کی تجرباتی مدت ہوتی ہے اس دوران اگر آجر واجیر باہمی طور پر راضی ہوں تو اقامہ بنوانے کےلیے درخواست دی جاتی ہے جس کے لیے میڈیکل ٹیسٹ لازمی ہے، اگر تین ماہ گزر جائیں اور اقامہ نہیں بنوایا گیا تواس صورت میں کفیل پر 500 ریال جرمانہ ہوتا ہے کیونکہ تجرباتی مدت ختم ہونے سے قبل کفیل کے لیے لازمی ہے کہ یا تو اقامہ بنوائے یا اپنے کارکن کو واپس بھیج دے۔
کیونکہ آپ کا سوال واضح نہیں ہے اس لیے جواب دینے میں دشواری کا سامنا ہے کہ آپ دریافت کیا کرنا چاہتے ہیں تاہم کوشش کی ہے کہ نئے آنے والوں کے لیے مروجہ اقامہ قانون کی وضاحت کردی گئی۔
کرفیو کی خلاف ورزی پر 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا (فوٹو: روئٹرز)
امداد جان کھوسہ کہتے ہیں مجھے 10 ہزار ریال کا جرمانہ آیا ہے، مزدوری کرنے جنگل میں گیا تھا کیا کروں؟
جواب۔ سعودی عرب میں کورونا وائرس کی وجہ سے کرفیو لگایا گیا ہے اس حوالے سے واضح احکامات ہیں کہ جو بھی کرفیو کی خلاف ورزی کرے گا اس پر 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ آپ پر جو جرمانہ عائد کیا گیا ہے وہ کرفیو کی خلاف ورزی کا ہے اس لیے بہتر ہے کہ آپ اپنے کفیل سے رجوع کریں وہ مذکورہ چالان پر حکومت سے ’ابشر‘ یا ’مقیم ‘ سسٹم کے ذریعے اپیل کرسکتا ہے علاوہ ازیں آپ بھی اپنے ابشر اکاؤنٹ سے اپیل دائر کرسکتے ہیں جس میں صورتحال کی وضاحت کی جائے گی جہاں متعلقہ کمیٹی اس امر کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی۔