انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے شاید پہلی بار مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد دی ہے اور اس کے بعد انہوں نے اتوار کو اپنے خصوصی خطاب ’من کی بات‘ میں بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔
یہی نہیں مرکزی حکومت نے شاپنگ مالز اور بڑے بازاروں کو چھوڑ کر دیہات اور محلوں کی دکانوں کو اچانک کھولنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔
لیکن موجودہ حکومت نے گذشتہ چھ برسوں میں مسلمانوں کو جس طرح نظر انداز کیا اور ان کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف جو خاموشی اختیار کی اس نے مسلمانوں میں حکومت کے لیے اس قدر عدم اعتماد پیدا کر دیا ہے کہ وہ اب مودی حکومت کی جانب سے ظاہر کی جانے والی 'نیک نیتی' پر بھی بھروسہ کرنے سے ڈرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
گھر پہنچنے کے لیے شہری پیاز کا تاجر بن گیاNode ID: 474666
-
تاش کھیل کر بوریت مٹانے کی کوشش، 24 افراد کورونا کا شکارNode ID: 474701
-
قرنطینہ مرکز میں پناہ لینے والی خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتیNode ID: 474746
جمعے کو رات تقریباً سوا آٹھ بجے وزیر اعظم نے ٹویٹ کی کہ ’رمضان مبارک! میں تمام لوگوں کی حفاظت، خیرت اور خوشحالی کے لیے دعاگو ہوں۔ یہ مبارک مہینہ اپنے ساتھ بے پناہ مہربانی، ہم آہنگی اور ہمدردی لائے۔ ہم کووڈ 19 کے خلاف جاری جنگ میں فیصلہ کن فتح حاصل کریں۔‘
اس کے علاوہ انہوں نے اتوار کو اپنے خصوصی پیغام ’من کی بات‘ میں کہا کہ ’رمضان کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ گذشتہ سال رمضان میں کسی نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ اس سال رمضان اس طرح کے شدید بحران میں گزرے گا۔ اب جبکہ پوری دنیا کو اس مسئلے کا سامنا ہے، ہمارے لیے رمضان یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اسے صبر، ہم آہنگی، حساسیت اور دوسروں کی خدمت کی علامت بنا دیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اور زیادہ عبادت کرنی چاہیے تاکہ دنیا عید سے پہلے کورونا وائرس سے چھٹکارہ حاصل کر لے تاکہ پہلے کی ہی طرح ہم اس بار بھی عید کی خوشیاں منائیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ مقامی گائڈلائنز کی پیروی کریں گے اور کورونا سے لڑنے کے ہمارے عہد کو مضبوط کریں گے۔‘
Ramzan Mubarak! I pray for everyone’s safety, well-being and prosperity. May this Holy Month bring with it abundance of kindness, harmony and compassion. May we achieve a decisive victory in the ongoing battle against COVID-19 and create a healthier planet.
— Narendra Modi (@narendramodi) April 24, 2020
انڈیا کی ویب سائٹ جنتا کے رپورٹر کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں دو بار رمضان کے متعلق مودی کا بیان خلیجی ممالک میں انڈیا میں جاری اسلاموفوبیا کے خلاف بڑھتے ہوئے غصے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ دنوں بہت سارے عرب دانشوروں نے انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف منافرت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اس کے علاوہ دکانوں کے کھولے جانے پر سوشل میڈیا پر مستقل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ پر ایک پیغام گشت کر رہا جس میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ آخر یکایک مودی حکومت نے یکم رمضان سے لاک ڈاؤن کے باوجود دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
سوشل میڈیا اور خاص طور پر واٹس ایپ پر لمبی لمبی پوسٹس نظر آ رہی ہیں جن میں یہ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ رمضان میں مسلمان بہت زیادہ خریداری کرتے ہیں اور سارے بڑے تاجر ہندو ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ سال بھر کی کمائی رمضان میں کرتے ہیں، اسی لیے یہ دکانیں کھولی گئی ہیں۔
It’s dawned on him now that virus & cure don’t see religion? Why was Delhi sarkar listing “markaz cases” separately then? He showed such bravado in ordering an FIR against Markaz but feebly prayed at Raj Ghat when NE Delhi was burning. Kya iska jawaab MANGALWAAR ko milega? https://t.co/Be6h629JXo
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) April 26, 2020
واٹس ایپ پر ایک مسیج میں کہا جا رہا کہ چونکہ رمضان میں مسلمان بہت زیادہ خریداری کرتے ہیں اور بازار میں ساری رونق انہی کی وجہ سے ہوتی ہے اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ بازار سے دور رہیں کہیں ایک ساتھ پکڑ کر ان کا کورونا کا ٹیسٹ نہ کیا جائے اور سامنے آنے والے نتائج کے بعد انہیں ایک بار پھر بدنام نہ کیا جائے جیسا کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر گذشتہ دو دنوں سے تبلیغی جماعت ٹرینڈ کر رہی ہے۔ گذشتہ روز تو 'تبلیعی ہیروز' ٹرینڈ کر رہا تھا جب کہ پیر کو ’تبلیغی جماعت پر فخر ہے' ٹرینڈ کر رہا ہے۔
اس سے قبل تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کو اس قدر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف منافرت کی عام فضا نظر آئی جہاں مسلمانوں کی دکانوں سے خریداری کرنے یا مسلمانوں کے ہاتھ سامان فروخت کرنے یا مسلمان سبزی فروشوں کو ہندو محلوں میں داخل ہونے پر مختلف جگہ روکا بھی گیا۔
بہر حال تبلیغی جماعت کے حوالے سے یہ ٹرینڈز اس وقت سامنے آئے ہیں جب کورونا سے متاثرہ تبلیغی جماعت کے پیروکار صحت یاب ہوئے اور انہوں نے کورونا کے علاج اور اس سے لڑنے میں پلازما تھیراپی کے لیے بڑے پیمانے پر خون کے عطیات دینے کی پیشکش کی۔

دہلی کے وزیراعلی کیجریوال کے متعلق مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے ٹویٹ کی کہ ’اب ان پر یہ بات کھلی کہ وائرس اور علاج مذہب نہیں دیکھتا۔ تو پھر دہلی حکومت ’مرکز کیسز‘ کو علیحدہ طور پر کیوں پیش کر رہی تھی؟‘
اسد اویسی نے لکھا کہ 'انہوں نے مرکز (مرکزی حکومت) کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں تو بہت بہادری دکھائی لیکن شمالی دلی جب جل رہی تھی تو وہ کمزوری کے ساتھ راج گھاٹ پر بیٹھے دعا کر رہے تھے۔ کیا اس کا جواب منگل وار کو ملے گا؟'
خیال رہے کہ فروری میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد دہلی کے وزیراعلی نے کوئی سخت قدم اٹھانے سے گریز کیا تھا۔ ان فسادات میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔
اویسی کی جانب سے منگل وار کا ذکر اس بات کی جانب اشارہ کہ اس دن اروند کیجریوال کی پارٹی کو اسمبلی انتخابات میں کامیابی ملی تھی اور اس دن کا ہندو مذہب سے بھی ایک تعلق ہے۔
ان سب سے قطع نظر ملک میں کورونا وائرس میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے اور اتوار کو حکومت ہند کی وزارت صحت نے کہا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1990 نئے کیسز سامنے آئے تھے جو کہ وبا کے شروع ہونے کے بعد سے ایک دن سب سے زیادہ تھا۔
