پاکستان میں حکام کے مطابق بڑے پاکستانی چین سٹورز نے سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس منصوبے پر کام کرنے والے حکام کے مطابق حلال اشیا فراہم کرنے والا ملک ہونے کے باوجود پاکستانی برانڈز سعودی اشیا خورد و نوش کے سٹورز پر مہیا نہیں ہیں کیونکہ مملکت میں پاکستانی رٹیل چینز نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں
-
اعلیٰ سعودی شخصیت اگلے دو ماہ میں پاکستان آئے گی: سعودی سفیرNode ID: 523756
-
سعودی عرب کے سفیر کی وزیر داخلہ شیخ رشید سے ملاقاتNode ID: 524921
-
’سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط، اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں‘Node ID: 529501
عرب نیوز کے رپورٹر خورشید احمد کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی چین سٹورز پاکستان میں بننے والی دیگر اشیا کو بھی پروموٹ کر سکتے ہیں۔
ریاض میں پاکستانی ایمبیسی کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ منسٹر اظہر علی ڈاہر نے جمعرات کو کہا کہ ’یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ پاکستانی ایکسپورٹرز نے اتنے عرصے سے اس بڑی مارکیٹ کو نظر انداز کیا، اور تجارت و برآمدات کے لیے اپنی زیادہ تر توجہ یورپی اور امریکہ جیسے ممالک پر مرکوز رکھی۔‘
سعودی عرب نئے کاروبار کے لیے آٹھ سو ارب ڈالر کی کنزیومر مارکیٹ آفر کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں سعودی معیشت سب سے بڑی ہے جس کا شمار دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے۔
ریاض میں پاکستانی ٹریڈ مشن کے مطابق سعودی عرب کی فی کس آمدن 57 ہزار امریکی ڈالرز سے زیادہ ہے۔
حکام نے پاکستان کے بڑے چین سٹورز سے کئی ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کا دورہ کریں اور مارکیٹ کا جائزہ لیں۔
حب لیدر، ناہید سپر مارکیٹ، سویرا ڈیپارٹمنل سٹورز، امتیاز سپر مارکیٹ، چیز اپ اور الفتح کے نمائندے پہلے ہی پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کر چکے ہیں اور انہوں نے سعودی عرب کا دورہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
