پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف میں باقاعدہ طور پر فارورڈ بلاک بن گیا ہے۔ اس بات کا اعلان پنجاب کے صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال نے منگل کے روز لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’گروپ کا نام جہانگیر ترین ہم خیال گروپ رکھا گیا ہے جو قومی اور پنجاب اسمبلیوں میں اپنے پارلیمانی لیڈرز بھی مقرر کرے گا۔‘
’قومی اسمبلی کے لیے ایم این اے راجا ریاض جبکہ پنجاب اسمبلی کے لیے ایم پی اے سعید اکبر نوانی پارلیمانی لیڈر ہوں گے۔‘
نعمان لنگڑیال کی میڈیا گفتگو سے پہلے منگل کی رات ماڈل ٹاؤن لاہور میں جہانگیر خان ترین کی رہائش گاہ پر ترین گروپ کے اراکین اکٹھے ہوئے جن کو عشائیہ دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں
-
کیا جہانگیر ترین پیپلز پارٹی میں شامل ہونے جارہے ہیں؟Node ID: 555026
عشائیے سے پہلے ایک اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں تمام ارکان نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف ترین گروپ کے رکن قومی اسمبلی راجا ریاض نے بتایا کہ ’ہم آج کوئی پہلی مرتبہ اکٹھے نہیں ہوئے۔‘
’یہ ایک مشاورتی اجلاس تھا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہم خیال گروپ اپنی نظریاتی سیاست کو برقرار رکھے گا، چونکہ مرکز کے ساتھ معاملات بالکل سیدھے نہیں ہیں لہٰذا ہماری اپنی سیاسی شناخت ہونا بھی ضروری ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم سب جہانگیر ترین کے ساتھ ہیں اور سب دوست مل کر اس سے آگے بھی جو فیصلے کریں گے وہ متفقہ ہوں گے۔‘
’ہم تحریک انصاف میں ہی ہیں اور ہمیں وزیراعظم عمران خان پر اعتماد ہے کہ وہ ہمارے مسائل سنیں گے اور جہانگیر ترین کی سیاسی کردار کشی بند ہو گی۔‘
اس سے قبل اجلاس میں دیگر اراکین سے خطاب کرتے ہوئے راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایف آئی اے کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ بیرسٹر علی ظفر نے بھی اپنی رپورٹ پیش کرنی ہے اسے بھی دیکھنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اب ہمارا گروپ کچھ سیاسی فیصلے بھی کرے گا اور یہ فیصلے جہانگیر ترین کی سربراہی میں ہوں گے۔‘
اجلاس میں شریک ایک رکن نے بتایا کہ ’اجلاس کے اختتام پر تمام اراکین سے جہانگیر ترین سے وفاداری کا حلف بھی لیا گیا‘ تاہم صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال کا کہنا تھا کہ ’آپ اسے حلف نہیں کہ سکتے یہ ایک عہد تھا جو تمام دوستوں نے کیا کہ آئندہ مل کر چلیں گے۔‘
’بدھ کے روز جہانگیر ترین کی پیشی ہے جس پر بھی تمام ساتھی ان کے ساتھ عدالت جائیں گے۔ اس اجلاس میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے 31 ارکان نے شرکت کی جبکہ کچھ اراکین ذاتی وجوہات کی بنا پر نہیں آسکے۔‘
