پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ اس اہم موڑ پر وہ پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے لیے عالمی رابطوں کو فروغ دیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مشترکہ کوششوں سے ہی افغانستان کو انسانی المیے اور معاشی مشکلات سے بچا سکتی ہیں۔‘
مزید پڑھیں
-
شاہ محمود قریشی کا او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سے رابطہNode ID: 593216
-
افغان طالبان کی عبوری حکومت کے سربراہ اور اہم وزرا کون ہیں؟Node ID: 598066
-
چین افغان طالبان کی عبوری حکومت سے بات چیت کے لیے تیارNode ID: 598246
افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ افغانستان میں امن سے علاقائی ممالک کی سرحدیں محفوظ، افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی، افغانستان میں معاشی بہتری اور علاقائی معاشی روابط کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
Pleased to welcome the Foreign Minister’s of China, Iran, Tajikistan, Turkmenistan & Uzbekistan to the 1st Ministerial meeting of #Afghanistan’s neighbours. The positive & constructive response to Pakistan’s proposal for a regional approach is appreciated. pic.twitter.com/RhXjSdqreC
— Shah Mahmood Qureshi (@SMQureshiPTI) September 8, 2021
پاکستانی وزیر خارجہ کی زیر صدارت ہونے والے ورچوئل اجلاس میں چین، ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے خطے میں امن کے حوالے سے پاکستان کی تعمیری اور مثبت علاقائی اپروچ کو سراہا۔ ‘
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ’نئے حقائق ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پرانے زاویوں سے دیکھنا ترک کر دیں۔ نئی بصیرت کے تحت حقیقی اور قابل عمل نقطہ نظر اپنایا جائے۔‘
It cannot be stressed enough that this requires enhanced engagement of the international community, particularly at this pivotal juncture. Our collective voice to the int’l community will reinforce our message of a peaceful, stable and prosperous Afghanistan. https://t.co/3u0OBsvXTP
— Shah Mahmood Qureshi (@SMQureshiPTI) September 8, 2021