ایرانی بیلسٹک میزائل ’خیبر شکن‘ جو اسرائیل تک مار کر سکتا ہے
ایرانی بیلسٹک میزائل ’خیبر شکن‘ جو اسرائیل تک مار کر سکتا ہے
جمعرات 10 فروری 2022 17:21
ایران نے گذشتہ سال فوجی مشقوں کے اختتام پر 16 بیلسٹک میزائل فائر کئے تھے۔ فوٹو عرب نیوز
ایران کے سرکاری ٹی وی نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے نئے ایرانی 'خیبر شکن' میزائل دکھایا ہے۔ اس میزائل کا نام 7ویں صدی میں مسلمانوں کی فتح کے نام پر رکھا گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ بیلسٹک میزائل اسرائیل، خلیجی ریاستوں کے دارالحکومت اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کی جانب سے گذشتہ روز بدھ کو دعوی کیا گیا تھا کہ اس نے ایک نیا بیلسٹک میزائل تیار کیا ہے جس کی رینج ساڑھے چودہ سو کلومیٹر ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری کا کہنا ہے کہ تہران کا ہتھیاروں کا پروگرام تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔
فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والا یہ میزائل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے مقامی طور پر تیار کیا ہے جو اپنے ہدف کو ٹھیک نشانہ بناتا ہے۔
ہم اپنی میزائل طاقت میں مقدار اور معیار دونوں لحاظ سے عمدگی کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن رہیں گے۔
ایران کے پاس مشرق وسطیٰ میں میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے گذشتہ سال ایران نے اسرائیل کے لیے انتباہ قرار دیتے ہوئے اپنی فوجی مشقوں کے اختتام پر 16 بیلسٹک میزائل فائر کئے تھے۔
میزائل کا نام 7ویں صدی میں مسلمانوں کی فتح کے نام پر ہے۔ فوٹو عرب نیوز
میجر جنرل باقری کا کہنا ہے کہ ایران فوجی سازوسامان کے لحاظ سے خود کفیل رہا ہے اور اگر امریکی پابندیاں ہٹا دی جائیں تو ایران دنیا کے سب سے بڑے ہتھیار برآمد کنندگان میں سے ایک ہو سکتا ہے۔
انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس تقریباً 20 قسم کے بیلسٹک میزائلوں کے علاوہ کروز میزائل اور ڈرونز بھی موجود ہیں۔
ایران کے پاس موجود قیام ۔ ون میزائل کی رینج 800 کلومیٹر ہے جب کہ غدر۔ ون کی رینج 1800 کلومیٹر تک پہنچنے کے قابل ہے۔
لندن میں موجودو تھنک ٹینک آئی آئی ایس ایس نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی موجودہ ترجیح اپنے میزائلوں کے ہدف کو ٹھیک نشانہ تک بڑھانا ہے۔
تہران کا ہتھیاروں کا پروگرام تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ فوٹو عرب نیوز
تہران کی بیلسٹک میزائل میں ترقی ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں جب کہ خلیج میں بہت سے امریکی اتحادیوں کا خیال ہے کہ ایسا ہونا چاہیے۔
ویانا میں ہونے والے مذاکرات تہران کی جوہری ترقی روکنے میں ناکام ہوئے تو اسرائیل نے ایک عرصے سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے۔
ویانا مذاکرات کا مقصد 2015 کے اصل معاہدے کو بحال کرانا ہے جس کے بدلے میں پابندیاں ہٹائے جانے کے بدلے میں ایران کی جوہری ترقی کو محدود کرنا ہے۔
معاہدے کی بحالی کے لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ بات چیت وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ جو بائیڈن کے آنے کے بعد شروع ہوئی تھی لیکن اپریل 2021 کے بعد سے آٹھ دوروں کے باوجود ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
تہران اور واشنگٹن دونوں نے ایک دوسرے پر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا الزام لگایا ہے۔