Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جامعہ ام القری کی لائبریری میں دیگر زبانوں میں تحقیقی مواد ہونا چاہئے، ڈاکٹر غنی

مکہ مکرمہ(محمد عامل عثمانی)سابق لائبریرین جامعہ ام القری ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری نے کہا ہے کہ برصغیر میں لائبریری کی روایت بہت پرانی ہے۔ لائبریریوں نے علم کی توسیع اور تحقیق میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وہ کمیونٹی کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عصرانے سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لائبریری و انفارمیشن سائنس علم ہے جو عرصہ دراز سے دنیا کی جامعات کے نصاب میں شامل ہے۔ بر صغیراور پاکستان میں اس علم کی باقاعدہ تعلیم کی ابتدا سو سال قبل 1915میں جامعہ پنجاب سے ہوئی تھی۔ آج یہ علم پاکستان کی متعدد جامعات کے نصاب کا حصہ ہے۔ اس علم کی سو سالہ تاریخ کا جشن 10اور13نومبر2015میں جامعہ پنجاب میں منایا گیا تھا۔جامعہ ام القری کے موجودہ کتب خانہ کے بارے میں کہا کہ میں تقریباً 16سال بعد جامعہ ام القریٰ کی لائبریری دیکھنے گیا۔ ہمارے زمانے کے اکثر عاملین ریٹائر ہوگئے تھے، صرف تین سے ملاقات ہوئی ۔ یہ دیکھ کر قدرے تشویش ہوئی کہ اسلامی ممالک کی زبانوں میں تحقیقی مواد جمع نہیں کیا جارہا ہے حالانکہ اسلامی ممالک میں بھی اسلامی علوم پر خاصہ موادشائع ہورہا ہے۔ اردو، انڈونیشی، بنگلہ، فارسی اور ترکی وغیرہ میں بھی کتب اور مجلات جامعہ کی لائبریری کی زینت بنناچاہئے ۔مکہ مکرمہ عالم اسلام کا مرکز ہے، اسکی جامعہ میں تمام اسلامی ممالک کی زبانوں کا تحقیقی مواد جمع کیا جاناچاہئے۔ 
 
 
 
 
 

شیئر: