پاکستان کی قومی اسمبلی کے قائم مقام سپیکر قاسم سوری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی ارکان کے استعفے سپیکر آفس پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جن کی منظوری وہ خود دے کر الیکشن کمیشن کو بھیجیں گے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے 20 منحرف ارکان نے مستعفی ہونے سے انکار دیا ہے۔
اتوار کو پارلیمنٹ ہاؤس میں اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں قاسم سوری نے تصدیق کی کہ ’100 سے زائد استعفے میرے پاس پہنچ چکے ہیں اور باقی بھی پہنچ رہے ہیں۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر استعفے منظور کیے جائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں خود استعفے منظور کرکے الیکشن کمیشن کو بھجواؤں گا۔‘
مزید پڑھیں
-
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے پاس کیا آپشنز ہیں؟Node ID: 659431
-
کیا ڈپٹی سپیکر کے خلاف آئین سے بغاوت کی کارروائی ہوسکتی ہے؟Node ID: 659476
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے سابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’جس آدمی پر 16 ارب کا ایک اور آٹھ ارب کی کرپشن کا دوسرا کیس ہو، اس آدمی کو بطور وزیراعظم سیلیکٹ یا الیکٹ کیا جائے تو اس سے بڑی ملک کی توہین کوئی اور نہیں ہو سکتی۔‘
پارٹی فیصلے کے تحت اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے استعفے دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن نور عالم خان نے اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ’ہم 20 لوگوں نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم استعفے نہیں دیں گے۔ ہم آج شاہ محمود قریشی کو ووٹ دینے کے لیے ایوان میں گئے تھے لیکن انھوں نے بائیکاٹ کر دیا، اب تو ان کا 63 اے بھی فارغ ہوگیا ہے۔‘
قومی اسمبلی کے قواعد کے مطابق رول 43 کے تحت کوئی بھی رکن قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 64کے تحت ہاتھ سے لکھا ہوا استعفیٰ سپیکر کے پاس جمع کرا سکتا ہے۔ اگر تو کوئی رکن خود استعفٰی جمع کرائے اور اپنے مستعفی ہونے کے بارے میں سپیکر آگاہ کرے اور سپیکر کو متعلقہ رکن پر مستعفی ہونے کے لیے کسی دباوؤکا علم نہ ہو تو وہ اس کا استعفیٰ قبول کرلے گا۔
