بلوچستان میں حکام کے مطابق ضلع چاغی میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کے نتیجے میں آٹھ مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔
پیر کو وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعے کے ڈپٹی کمشنر اور دو اسسٹنٹ کمشنرز کو فوری تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔
حکام کے مطابق ضلعی ہیڈ کوارٹر دالبندین سے تقریباً 80 کلومیٹر دور چاغی میں 150 کے لگ بھگ مظاہرین پاک افغان سرحد کے قریب نوکنڈی میں جمعرات کو پیش آنے والے اس واقعے کے خلاف احتجاج کررہے تھے جس میں افغانستان کھاد سمگل کرنے والی ایک گاڑی کے ڈرائیور کو نہ رکنے پر فائرنگ کی تھی جس سے اس کی ہلاکت ہوگئی۔
مزید پڑھیں
-
بلوچستان: یونیورسٹیوں سے متعلق نئی قانون سازی کے خلاف احتجاجNode ID: 660661
-
پاکستان کی افغانستان سے ہونے والی ’دہشت گردی‘ کی مذمتNode ID: 661946
ڈپٹی کمشنر چاغی منصور بلوچ کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے چاغی میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے باہر احتجاج کیا اور سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کے علاوہ ان سے اسلحہ چھیننے کی کوشش بھی کی جس کے دفاع میں فورسز نے کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تصادم کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔
چاغی کے رورل ہیلتھ سینٹر کے ڈاکٹر عبدالباسط کے مطابق ’ہسپتال میں آٹھ زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے چھ کو جسم کے مختلف حصوں میں گولیاں لگی تھیں۔ دو زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد فارغ کردیا گیا، جبکہ باقی چھ زخمیوں کو ضلعی ہیڈ کوارٹر دالبندین کے پرنس فہد ہسپتال منتقل کیا گیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’دو زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جنہیں جبڑے اور کندھے پر گولیاں لگی ہیں۔ انہیں مزید علاج کے لیے کوئٹہ لے جایا گیا۔‘
چاغی میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ایک ہفتے کے دوران تصادم کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے جمعے کو ایک ڈرائیور کی ہلاکت کے خلاف لاش کے ہمراہ احتجاج کرنے والے 9 مظاہرین فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے۔
مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ پاک افغان سرحد کو مقامی تجارت کے لیے دوبارہ کھولا جائے اور ضبط کی گئیں گاڑیاں واپس کی جائیں۔ ڈپٹی کمشنر تفتان ظہور احمد نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ فورسز نے مظاہرین کے مطالبات مان لیے تھے۔
نوکنڈی واقعے کے خلاف پیر کو کوئٹہ، تربت، گوادر اور کراچی میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
چاغی کے تازہ واقعے کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں نے کل چاغی اور دالبندین میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور منگل کو بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
شہباز شریف حکومت کی اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے مظاہرین پر فائرنگ کے خلاف قومی اسمبلی سے احتجاجاً واک آؤٹ بھی کیا۔
