سعودی سرمایہ کاروں کا وفد پاکستان کا ایک ہفتے کا کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہوگیا ہے۔ سعودی بزنس کونسل کے چیئرمین فہد بن محمد الباش کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع نظر آئے ہیں جن پر مستقبل قریب میں پیش رفت ہوگی۔
سعودی وفد گزشتہ ہفتے اسلام آباد پہنچا تھا جس نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، وفاقی وزراء، وفاقی و صوبائی سرمایہ کاروی بورڈز حکام اور پاکستانی کاروباری افراد اور چیمبرز کے عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔
وفد نے اسلام آباد کے علاوہ لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد اور کراچی کا دورہ بھی کیا جہاں تاجر برادری سے ملاقاتوں کے علاوہ انہوں نے فٹ بال، توانائی، کیمیکلز، فوڈ انڈسٹری اور دیگر صنعتوں کا دورہ کیا۔
مزید پڑھیں
-
آنے والے دنوں میں پاکستان کو مستحکم دیکھیں گے: سعودی سفیرNode ID: 678336
-
’سعودی عرب سے تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں‘Node ID: 679176
اس دورے کے حوالے سے اردو نیوز کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں وفد کے سربراہ اور پاک سعودی بزنس کونسل کے چیئرمین فہد بن محمد الباش نے کہا کہ ’ہمارے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی جہت دینا تھا۔ جیسا کہ دورے کے آغاز پر کہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو فروغ دیے بغیر کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔‘
’اب بھی کہتا ہوں کہ دونوں ملکوں کی مارکیٹ میں ایک دوسرے کی مصنوعات کی موجودگی ہی ہمارے مفاد میں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے تاجر آگے آئیں۔ ہم نے دورہ کیا اب جلد ہی پاکستانی وفد سعودی عرب کا دورہ کرے گا۔ پھر کھیلوں، فارماسوٹیکل، فوڈ انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں تجارتی معاہدے ہوں گے۔ ان معاہدوں کی روشنی میں تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’سعودی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ دونوں ممالک کی حکومتیں بھی تعاون کر رہی ہیں اب متعلقہ سیکٹرز پر ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے لیے کس طرح سے اقدامات کرتے ہیں۔‘
اس دورے کے کوآرڈینیٹر اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے میں تعینات ٹریڈ منسٹر اظہر علی ڈیہڑ نے سعودی سرمایہ کاروں کے دورہ پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دورے کا اختتام کامیابی سے ہوا۔ آخری دن کراچی میں انتہائی کامیاب اور مفید رہا۔ کیمکل، فٹ بال کی صنعت، توانائی اور فوڈ انڈسٹری میں سعودی سرمایہ کاروں نے بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کی۔‘
انا کا کہنا تھا کہ ’اب پاکستانی سیکٹرز اگر سرمایہ کاری چاہتے ہیں تو وہ اپنی فزیبلٹی رپورٹس ہمارے ساتھ شیئر کریں۔ ہم ان کی سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ مزید پیش رفت میں کردار ادا کریں گے۔‘
