پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ لاہور سے شروع ہو چکا ہے۔ مارچ کے آغاز کے لیے لاہور کے لبرٹی چوک کا انتخاب کیا گیا۔
بدھ کی شام سے ہی لبرٹی چوک میں ایک درجن کے قریب کیمپ لگا دیے گئے۔ مارچ کی روانگی کا وقت جمعے کی صبح 11 بجے رکھا گیا تھا۔ لیکن 11 بجے کارکن نہیں پہنچے ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ میڈیا سے متعلق افراد اور یو ٹیوبرز تحریکی کارکنوں سے زیادہ ہیں۔
مزید پڑھیں
اور پھر آہستہ آہستہ کارکن آنا شروع ہوئے لیکن نماز جمعہ کی وجہ سے دو گھنٹے تک سپیکرز اور میوزک بند رکھے گئے۔ تحریک انصاف کے نغموں میں روایتی ترانوں کی گونج نہ ہونے کی وجہ سے کیمپوں کے رنگ پھیکے رہے۔
دو بجے کے قریب کارکنوں کی تعداد کچھ اور بڑھ گئی۔ جب سوا تین بجے عمران خان خود پہنچے تو اس وقت صورت حال یہ تھی کہ لبرٹی چوک آدھا بھر چکا تھا۔ عمران خان کی تقریر بغیر کسی تاخیر کے شروع ہو گئی۔
تحریک انصاف کے مجمعے میں وہ جوش اور ولولہ نہیں نظر آرہا تھا جو اس جماعت کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
’پریس کانفرس سے ہمارے جذبے اور بڑھ گئے‘
ایک ادھیڑ عمر میاں بیوی بیوی جنہوں نے تحریک انصاف کے جھنڈے کے پٹکے گلے میں ڈالے ہوئے تھے۔ ان سے جب میں نے پوچھا کہ کیا وہ لانگ مارچ کے ساتھ جا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا ’نہیں ہم صرف یہاں تک رہیں گے۔ لیکن ہو سکتا ہے ہمارا اسلام آباد جانے کا پلان بن جائے۔‘
میرا صحافی ہونے کا تعارف سننے کے بعد انہوں نے اچانک ہی کل ہونے والی فوجی پریس کانفرنس پر بات چیت شروع کر دی۔ ’یہ اچھا نہیں ہوا ہمیں اس کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ ہمیں اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ ہمارے جذبے اور بڑھ گئے ہیں۔‘
درجن بھر لوگوں سے بات چیت کے بعد یہ تأثر جڑ پکڑ گیا کہ لوگ غصے میں ہیں لیکن یہ بات بھی اچنبھے سے کم نہیں تھی کہ تحریک کا وہ کراؤڈ کہاں گیا جو عمران خان کی کال پر باہر نکل آتا تھا۔

لبرٹی چوک میں اکھٹے ہونے والے کارکنان کی تعداد اس سے کم نظر آرہی تھی جو عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور ہونے کے بعد ان کی کال پر اسی چوک میں احتجاج کے لیے اکھٹے ہو گئے تھے۔ ان میں ایسے افراد کی بھی ایک بڑی تعداد نظر آئی جو لانگ مارچ کے ساتھ نہیں جا رہے تھے۔
تحریک انصاف کے کارکنوں سے ہٹ کر عام شہریوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ تحریک انصاف کی قیادت نے دوپہر کے وقت لاہور کے عوام سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ باہر نکلیں۔
’لبرٹی چوک پر ساری طاقت اکھٹی کرنے کا منصوبہ نہیں تھا‘
جب اس حوالے سے تحریک انصاف کے راہنما مراد راس سے پوچھا کہ کیا لوگ آپ کی توقع کے مطابق نہیں نکلے؟ تو ان کا کہنا تھا ’ہماری توقع سے زیادہ نکلے ہیں۔ ہماری حکمت عملی مختلف ہے۔ ہم نے آزادی چوک پہنچنے سے پہلے چار جگہوں پر کیمپ لگائے ہوئے ہیں جہاں سے لوگ اس مارچ میں شامل ہوں گے۔ اور مارچ کی اصل شکل آپ کو اسلام آباد میں نظر آئے گی جب ملک کے طول و عرض سے قافلے پہنچیں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے اپنے تمام ارکان صوبائی اسمبلی اور مقامی قیادت کو کہا کہ وہ اپنے اپنے شہروں اور قصبوں سے مارچ میں شامل ہوں وہ لاہور نہ پہنچیں۔ ہم نے لبرٹی چوک پر ساری طاقت اکھٹی کرنے کا منصوبہ رکھا ہی نہیں تھا۔‘
لبرٹی چوک میں آئے تحریک انصاف کے کارکنان بھی یہی سمجھتے تھے کہ بہت بڑی تعداد نکلی ہے اور توقع سے زیادہ لوگ نکلے ہیں۔ شرکا کی زیادہ تر گفتگو شنید عسکری حکام کی پریس کانفرنس نے گرد ہی گھوم رہی تھی۔ جب عمران خان نے اپنی تقریر میں عسکری حکام کا ذکر کیا تو انہیں کراؤڈ کی جانب سے غیرمعمولی رسپانس ملا۔ جو اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ کارکن ایسی باتیں ہیں سننا چاہ رہے تھے۔
