Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں پاکستانی خواتین مردوں سے بہت پیچھے

پاکستان میں عورتوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں یہ رجحان انتہائی کم ہے۔(فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں مردوں کی اجارہ داری ہے۔ خواتین صارفین مردوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ 
پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک میں موبائل صارفین کی تعداد 19 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جس میں 14 کروڑ مرد جبکہ 5 کروڑ عورتیں ہیں۔ اسی طرح موبائل فون پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 11 کروڑ ہے جس میں 9 کروڑ کے قریب مرد اور دو کروڑ 60 لاکھ سے زائد خواتین صارفین ہیں۔ 
پاکستان میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایکٹو سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سات کروڑ ہے تاہم فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹا گرام پر مردوں اور عورتوں کے درمیان 47 سے 78 فیصد فرق پایا جاتا ہے۔ 
پاکستان میں عورتوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں یہ رجحان انتہائی کم ہے۔ اگرچہ پاکستان جلد ہی 100 فیصد موبائل کوریج کا ہدف مکمل کرلے گا لیکن اس وقت بھی پاکستان میں 5 کروڑ 20 لاکھ موبائل سمز خواتین کے بائیو میٹرک کی تصدیق کے ساتھ حاصل کی گئی ہیں۔ جن میں سے 50 فیصد یعنی دو کروڑ 60 لاکھ تھری جی یا فور جی انٹرنیٹ بھی استعمال کر رہی ہیں۔ 
اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں مردوں اور عورتوں کے درمیان موبائل انٹرنیٹ کے استعمال کا فرق 16 فیصد تک ہے۔ یعنی انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں عورتوں کے مقابلے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے مردوں کی تعداد 16 فیصد زائد ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح 38 فیصد ہے۔ 
پاکستان میں چار بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 16 کروڑ سے زائد بنتی ہے تاہم ایک صارف بیک وقت دو سے تین پلیٹ فارمز پر بھی موجود ہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ ایکٹو سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سات کروڑ سے زائد ہے۔ 
یوٹیوب کے سب سے زیادہ صارفین ہیں جن کی تعداد 7 کروڑ 17 لاکھ ہے۔ جن میں سے 72 فیصد مرد جبکہ 28 فیصد خواتین ہیں۔ یہ فرق 61 فیصد بنتا ہے۔ فیس بک کے صارفین کی تعداد پانچ کروڑ 71 لاکھ ہے جن میں سے 77 فیصد مرد اور جبکہ 23 فیصد خواتین ہیں۔ یہ فرق 70 فیصد تک بتایا جاتا ہے۔ ٹاک ٹاک کے صارفین کی تعداد ایک کروڑ 83 لاکھ سے زائد ہے جن میں سے 82 فیصد مرد اور 18 فیصد خواتین ہیں۔ یہ فرق 78 فیصد بنتا ہے۔ انسٹا گرام پر صارفین کی تعداد میں سب سے کم فرق ہے جو کہ 47 فیصد ہے۔ انسٹا گرام کے پاکستانی صارفین کی تعداد ایک کروڑ 38 لاکھ ہے جس میں سے65 فیصد مرد اور 35 فیصد خواتین ہیں۔ 

اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں مردوں اور عورتوں کے درمیان موبائل انٹرنیٹ کے استعمال کا فرق 16 فیصد تک ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

موبائل انٹرنیٹ آنے سے دنیا بھر میں برانچ لیس بینکنگ کا رجحان فروغ پا رہا ہے اور پاکستان میں بھی برانچ لیس بینکنگ میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے لیکن گزشتہ چار سال کے دوران موبائل کے ذریعے برانچ لیس بینکنگ کے حوالے سے مردوں اور عورتوں کے اکاونٹس میں فرق میں صرف 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 
چار سال پہلے کل چار کروڑ 60 لاکھ اکاؤنٹس تھے جن میں سے 3 کروڑ 60 لاکھ مردوں جبکہ عورتوں کے اکاؤنٹس ایک کروڑ تک تھے۔ اب یہ تعداد بڑھ کر 8 کروڑ 85 لاکھ ہو چکی ہے جن میں سے 6 کروڑ 37 لاکھ مردوں کے جبکہ دو کروڑ 48 لاکھ خواتین کے ہیں۔ 
معاشرتی اور اقتصادی ترقی کے پیش نظر حکومت نے پی ٹی اے اور دیگر پلیٹ فارمز سے خواتین کو مستقبل میں انفارمیشن کمیونکیشن ٹیکنالوجیز کے شعبے میں مردوں کے مقابل لانے کے لیے کئی ایک اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ جن کی مدد سے خواتین کی بڑی تعداد موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال سمیت اس شعبے سے وابستہ دیگر پلیٹ فارمز سے منسلک نظر آئیں گی۔ 

شیئر: